آزاد کشمیر: انتخابی پیش رفت، سیاسی کشیدگی اور مذاکرات کی ضرورت
آزاد جموں و کشمیر میں ایک جانب انتخابی عمل جاری ہے تو دوسری جانب عوامی احتجاج، سیاسی بے چینی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال نے خطے کی سیاسی فضا کو غیر معمولی طور پر حساس بنا دیا ہے۔ میرپور ڈویژن میں ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابی نتائج نے روایتی سیاسی جماعتوں کی برتری کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کیا، تاہم احتجاجی تحریک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپوں نے ریاستی انتظامیہ کی کارکردگی پر کئی سنجیدہ سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔
میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی برتری
میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 9 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں دونوں بڑی جماعتیں بدستور نمایاں اثرورسوخ رکھتی ہیں۔
استحکام پاکستان پارٹی نے بھی انتخابی میدان میں اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے 12 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے، تاہم وہ کسی بھی نشست پر کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ یہ نتائج نئی یا نسبتاً کمزور سیاسی جماعتوں کے لیے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں مضبوط تنظیمی ڈھانچے، مقامی سیاسی روابط اور دیرینہ انتخابی اثرورسوخ کے بغیر کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں۔
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی انتخابی عمل میں شرکت
جمہوری اور پارلیمانی نظام پر ان کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ اس تناظر میں بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ماضی کے انتخابی بائیکاٹ، بالخصوص 1985 کے تجربے، کا حوالہ دیتے ہوئے بائیکاٹ کی سیاست پر تنقید بھی قابل توجہ ہے۔ جمہوری نظام میں سیاسی اختلاف کے باوجود انتخابی میدان خالی چھوڑنے کے بجائے عوامی فیصلے کو قبول کرنا زیادہ مؤثر اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سمجھا جاتا ہے۔
بھارتی اعتراضات اور دوہرے معیار کا مسئلہ
بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات پر اعتراضات اور تنقید کو ویڈیو میں بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے۔ یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں طویل عرصے سے جاری سیاسی پابندیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو محدود کیے جانے کے بعد بھارت کے پاس آزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر اعتراض کرنے کا کوئی مضبوط اخلاقی جواز موجود نہیں
علاقائی حالات کا تقاضا ہے کہ بھارت تنقیدی بیانات کے بجائے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق، سیاسی آزادی اور کشمیری عوام کے حقِ رائے دہی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دے۔
عوامی احتجاج اور امن و امان کی تشویش ناک صورت حال
انتخابی سرگرمیوں کے ساتھ ہی آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور عوامی بے چینی نے حالات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مختلف مقامات پر مظاہرین اور رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات نے خطے میں اضطراب اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کی۔
یہ صورت حال صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی اور سیاسی ناکامی کی علامت بھی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ انتظامیہ، پولیس اور انٹیلی جنس ادارے حالات کی سنگینی کا بروقت اندازہ لگانے اور کشیدگی کو ابتدائی مرحلے میں کم کرنے میں کیوں ناکام رہے۔ اگر عوامی شکایات، سیاسی محرومیوں اور انتظامی کمزوریوں کو بروقت سمجھا جاتا تو ممکن ہے کہ صورت حال تصادم اور تشدد تک نہ پہنچتی۔
ریاستی اداروں کی ذمہ داری
ریاستی اداروں کی ذمہ داری صرف احتجاج کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں موجود حقیقی عوامل، عوامی محرومیوں اور ممکنہ بیرونی مداخلت کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا بھی ہے۔ طاقت کا غیر ضروری استعمال عوامی غصے میں اضافے اور ریاستی اداروں پر اعتماد میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔
طاقت کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے
آزاد کشمیر کی موجودہ صورت حال کا پائیدار حل محض انتظامی اقدامات یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں۔ حکومت اور متعلقہ ریاستی اداروں کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی سمیت تمام نمائندہ حلقوں کے ساتھ سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔
عوام کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا ریاستی کمزوری نہیں بلکہ سیاسی تدبر اور جمہوری پختگی کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تشدد، انتشار اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی مکمل شفافیت اور قانون کے مطابق کی جائے تاکہ پرامن مظاہرین اور تخریب کاری میں ملوث افراد کے درمیان واضح فرق برقرار رہے۔
نئی سیاسی قیادت کی ذمہ داری
آنے والی منتخب حکومت، بالخصوص مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی، پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہو گی کہ وہ انتخابی کامیابی کو صرف اقتدار کے حصول تک محدود نہ رکھیں بلکہ عوامی مسائل کے حل، انتظامی اصلاحات اور ریاستی اداروں پر اعتماد کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کریں۔
نئی حکومت کو عوام کے جائز مطالبات، مہنگائی، بنیادی سہولتوں، بجلی، روزگار، انتظامی شفافیت اور سیاسی نمائندگی جیسے معاملات کو ترجیح دینا ہو گی۔ محض وقتی اعلانات یا مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دینے کے بجائے ایسے عملی فیصلے ضروری ہیں جن کے اثرات عوام کو فوری طور پر محسوس ہوں
آزاد کشمیر اس وقت ایک نازک سیاسی اور انتظامی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انتخابی عمل کا تسلسل ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن جمہوریت کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب عوام کے مسائل سنے جائیں، احتجاج کے اسباب دور کیے جائیں اور ریاستی معاملات کو طاقت کے بجائے تدبر، مکالمے اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے چلایا جائے۔
سیاسی قیادت، انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ خطے میں پائیدار امن صرف سکیورٹی انتظامات سے قائم نہیں ہو سکتا۔ حقیقی استحکام کے لیے انصاف، شفاف حکمرانی، مؤثر عوامی نمائندگی اور جائز مطالبات کا بروقت حل ناگزیر ہے۔





















