
تحریر : آصف انقلابی
ظلم بربریت سفاکیت اور یزیدیت کی داستان 17 جون 2014 جب عالم اسلام کے سب سے بڑے رہنما قائد انقلاب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی رہاہش گاہ القادریہ ہاؤس اور مرکز منہاج القرآن انٹرنیشنل ماڈل ٹاؤن لاہور پر بیریئرز ہٹانے کے بہانے پنجاب پولیس کی طرف سے سخت ترین دھاوا بولا گیا یہ ایک حادثہ نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا جسکے نتیجہ میں محب وطن منہاج القرآن کے 100 نہتے پُرامن کارکنان کو زخمی کیا گیا جبکہ دن دیہاڑے میڈیا نمائندگان کی موجودگی میں چودہ پُرامن نہتے کارکنان کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا جس میں قوم کی باوقار دو بیٹیاں بھی شامل تھیں اور ان میں سے ایک حاملہ خاتون بھی تھی جس کو جبڑے میں گولی مار کر شہید کردیا گیا یہ سب سفاکیت یزیدیت کی منہ بولتی مثال ہے کیوں کہ یہ وہ دور تھا جب ڈاکٹر محمد طاہر القادری قوم کو انکے بنیادی حقوق سے آگاہ فرما کر انہیں تبدیلی نظام اور انقلاب کیلئے تیار کر رہے تھے ، فرسودہ اور عوام دشمن نظام کا رکھوالا طبقہ جو ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے اس پیغام انقلاب سے خوفزدہ تھا اسی خوف میں سانحہ ماڈل ٹاؤن بپا کیا گیا جو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب بن چکا ہے
آج سانحہ ماڈل ٹاؤن کو 12 برس بیت گئے مگر انصاف اب بھی ظالموں کے شکنجے میں بے بس تڑپ رہا ہے؟؟؟
سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران اور قاتلین آج اس قدر طاقتور ہو چکے ہیں کہ جب سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم سے قائم (J I T)
نے اپنی تفتیش اور تحقیقات مکمل کرلیں تمام ثبوت و شواہد اکٹھے کر لئے تو قاتلوں نے ہائیکورٹ لاہور سے حکم امتناعی (Stay Order) ایک معمولی کانسٹیبل جو خود قاتلوں میں شامل تھا؟؟ اسکے ذریعہ سے حاصل کر لیا کہ تفتیشی (Team) اپنی انکوائری انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش نہ کرے
12 سال سے انصاف عدالتوں کی انہیں غلام گردشوں میں سسکیاں لے رہا ہے کیا اسی کا نام جمہوریت ہے ؟؟
کیا اسی کا نام انصاف ہے ؟؟ کیا اسی کا نام قانون ہے ؟؟
یہ انصاف فراہم کرنے والے اداروں اور معزز ججز پر سوالیہ نشان ہے
انصاف کی کرسی پہ بیٹھے معزز ججز سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں آپکو اور کیا ثبوت پیش کریں جسٹس باقر نجفی کی حقائق پر مبنی رپورٹ آپ پڑھ چکے ہیں جبکہ چودہ ہزار تصاویر ثبوت ایک ہزار ویڈیوز ثبوت جبکہ چشم دید گواہان 152 ہیں اس سانحہ کی گواہ پوری قوم اور میڈیا چینلز ہیں جنہوں نے یہ ظلم و بربریت مسلسل چودہ سے پندرہ گھنٹے یہ خونی منظر ٹی وی سکرین پہ پوری دنیا کو دکھاتے رہے اور آپ بھی تو دیکھ رہے تھے نا ؟ کیا انصاف کرنے کیلئے یہ ثبوت کافی نہیں ہیں ؟ پوری قوم مطالبہ کرتی ہے کہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کو انصاف فراہم کیا جائے ،انصاف میں مزید تاخیر کہیں انصاف سے انکار تو نہیں ؟ ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور تحریک منہاج القران 12 سالوں سے نچلی سطح سے لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان تک کیسز پوری جرات کیساتھ لڑ رہے ہیں اور 950 سے زائد پیشیاں بھگت چکے ہیں اور آخری سانس تک شہدائے انقلاب کے قصاص کی قانونی جنگ جاری رکھیں گے ۔





















