لوسرن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)
پاکستان اور قطر کی مشترکہ سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ لوسرن میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس کے اختتام پر فریقین نے آئندہ 60 روز کے اندر ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کیلئے باقاعدہ روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے بعد پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت ہونے والے پہلے اعلیٰ سطحی مذاکرات مثبت، تعمیری اور دوستانہ ماحول میں مکمل ہوئے۔ اعلامیے کے مطابق فریقین نے متعدد اہم معاملات پر پیش رفت کی اور مستقبل کے مذاکرات کیلئے ایک منظم طریقہ کار پر بھی اتفاق کیا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ مذاکراتی عمل کی سیاسی نگرانی کیلئے ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو مختلف مراحل پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے گی۔ مرکزی مذاکرات کار اس کمیٹی کو مسلسل آگاہ کرتے رہیں گے جبکہ جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور تنازعات کے حل سے متعلق الگ الگ ورکنگ گروپس بھی قائم کیے جائیں گے۔
فریقین نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس مقصد کیلئے ایک خصوصی براہ راست رابطہ نظام قائم کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور خطے میں استحکام برقرار رہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکراتی پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اور قطری ثالثی نے سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بعض اہم اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے منجمد اثاثوں کے اجراء سے متعلق بھی پیش رفت ہوئی ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران کی تعمیر نو اور معاشی بحالی کیلئے ایک وسیع منصوبے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ لبنان سے متعلق معاملات پر بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے ایک مشترکہ "ڈی کنفلیکشن سیل” قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس سیل میں لبنان اور ثالث ممالک کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات پورا ہفتہ برگن اسٹاک میں جاری رہیں گے جہاں مختلف ورکنگ گروپس تفصیلی امور پر مشاورت کریں گے۔ پاکستان اور قطر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئندہ بھی مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔
پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کی جانب سے سفارتکاری اور مذاکرات کے راستے کو اپنانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے ان تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس عمل کی کامیابی کیلئے تعاون فراہم کیا۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اجلاس میں شرکت کے بعد اپنے وفد کے ہمراہ وطن واپسی کیلئے روانہ ہو گئے ہیں جبکہ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو خطے کے امن و استحکام کیلئے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اسلام آباد علاقائی تنازعات کے حل میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے اسے سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو خطے میں امن کے فروغ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق مذاکراتی عمل میں اعتماد سازی کا اہم اشارہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین وعدوں پر قائم رہے تو ایک تاریخی معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ گزشتہ کئی برسوں سے تنازعات اور کشیدگی کا شکار رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان اور قطر کی مشترکہ سفارتی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مذاکرات اور سفارتکاری اب بھی مسائل کے حل کا بہترین راستہ ہیں۔
میری رائے میں یہ پیش رفت صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے امن، معیشت اور استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔





















