مون سون میں آنکھوں کے انفیکشن سے کیسے بچا جائے؟ ماہرین نے مؤثر احتیاطی تدابیر بتا دیں

اگر آنکھوں میں خارش یا جلن محسوس ہو تو انہیں بار بار رگڑنے سے گریز کرنا چاہیے

لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)مون سون کی بارشیں اگرچہ موسم کو خوشگوار بنا دیتی ہیں، تاہم اس دوران مختلف انفیکشنز کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی بیماریاں بھی تیزی سے پھیلنے لگتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہوا میں بڑھتی ہوئی نمی، جراثیم، آلودگی اور الرجی پیدا کرنے والے ذرات آنکھوں کے انفیکشن کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کے موسم میں گندگی، گردوغبار اور آلودہ پانی کے باعث آنکھیں بیکٹیریا اور وائرس کا آسان ہدف بن سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں آنکھوں میں سوزش، سرخی، جلن، درد اور مسلسل پانی آنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض افراد کو دھندلا دکھائی دینے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر یہ علامات شدت اختیار کریں یا کئی دن تک برقرار رہیں تو خود علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر ماہرِ امراضِ چشم سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج ممکن ہو سکے۔

ماہرین نے آنکھوں کو انفیکشن سے محفوظ رکھنے کے لیے چند اہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھونا، گندے ہاتھوں سے آنکھوں کو نہ چھونا اور ذاتی صفائی کا خاص خیال رکھنا انفیکشن کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔

اگر آنکھوں میں خارش یا جلن محسوس ہو تو انہیں بار بار رگڑنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جراثیم مزید پھیل سکتے ہیں۔ آنکھوں کی صفائی کے لیے ہمیشہ صاف ٹشو یا صاف رومال استعمال کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آنکھوں میں تکلیف یا سوزش محسوس ہو تو چند منٹ کے لیے صاف اور نیم گرم کپڑا آنکھوں پر رکھنا آرام پہنچا سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر دن میں کئی مرتبہ گرم کمپریس بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مزید برآں انفیکشن کے دوران آنکھوں کا میک اپ استعمال نہ کرنے، برش اور دیگر کاسمیٹک اشیا کو صاف رکھنے، بستر کی چادریں، تکیے کے غلاف اور تولیے باقاعدگی سے تبدیل کرنے اور انہیں گرم پانی سے دھونے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح تولیہ، رومال یا آنکھوں سے متعلق ذاتی اشیا کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق مون سون کے موسم میں آنکھوں کے انفیکشن کے کیسز میں اضافہ معمول کی بات ہے، تاہم بروقت احتیاط، صفائی اور طبی مشورے پر عمل کر کے ان میں سے زیادہ تر مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ معمولی علامات کو نظر انداز کرنا بعد میں پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر صارفین نے بھی مون سون کے دوران آنکھوں کے انفیکشن میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ متعدد افراد نے اپنی روزمرہ زندگی کے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس موسم میں صفائی اور احتیاط کو معمول بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔

ماہرین کی رائے

ماہرینِ امراضِ چشم کے مطابق آنکھوں میں مسلسل سرخی، شدید درد، دھندلا پن یا غیر معمولی سوجن کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق بروقت تشخیص اور ڈاکٹر کے مشورے سے تجویز کردہ آئی ڈراپس یا دیگر ادویات انفیکشن پر مؤثر انداز میں قابو پانے میں مدد دیتی ہیں۔

صحت مند آنکھیں بہتر زندگی کی ضمانت ہیں۔ مون سون کے موسم میں معمولی سی احتیاط، صفائی کا اہتمام اور بروقت طبی رہنمائی نہ صرف آنکھوں کے انفیکشن سے بچا سکتی ہے بلکہ بینائی کو بھی محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

میری رائے میں آنکھوں کے انفیکشن سے بچاؤ علاج سے کہیں زیادہ آسان اور مؤثر ہے۔ اگر ہم ہاتھوں کی صفائی، ذاتی اشیا الگ رکھنے اور علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی مشورہ لینے کی عادت اپنا لیں تو زیادہ تر پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین