آزاد کشمیر کے انتخابی معرکے میں ن لیگ سب پر بازی لے گئی، 13 نشستیں حاصل، پیپلز پارٹی کے حصے میں 5 سیٹیں آئیں

انتخابی عمل صبح 8 بجے شروع ہوا اور شام 6 بجے تک جاری رہا

مظفرآباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی آٹھ اور مہاجرین کی بارہ نشستوں پر پولنگ کے بعد موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سبقت حاصل کرتے ہوئے 13 نشستیں اپنے نام کر لیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پانچ نشستوں پر کامیاب رہی۔

انتخابی عمل صبح 8 بجے شروع ہوا اور شام 6 بجے تک جاری رہا۔ تاہم خراب موسم، شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایل اے-28 مظفرآباد 2 (لچھراٹ) کے متعدد پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق نوسیری، نوسدہ، پنجگراں، دیولیاں اور پنجکوٹ کے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عملہ اور پولنگ سامان نہ پہنچنے کے باعث ان مقامات پر پولنگ 4 اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ متعلقہ پولنگ بیگز واپس ریٹرننگ افسر کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق ایل اے-25 نیلم ویلی 1 سے مسلم لیگ (ن) کے شاہ غلام قادر کامیاب قرار پائے، جبکہ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس تیسرے نمبر پر رہے۔

ایل اے-29 مظفرآباد سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار مختار کامیاب ہوئے، جبکہ ایل اے-30 سے مسلم لیگ (ن) کے مصطفیٰ بشیر عباسی نے کامیابی حاصل کی۔

ایل اے-32 میں مسلم لیگ (ن) کے راجہ فاروق حیدر کامیاب رہے، جبکہ ایل اے-33 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے دیوان علی قمر چغتائی نے کامیابی حاصل کی۔

مہاجرین کی نشستوں میں بھی مسلم لیگ (ن) نے نمایاں برتری حاصل کی۔ ایل اے-35، ایل اے-36، ایل اے-37، ایل اے-38، ایل اے-39، ایل اے-41، ایل اے-42، ایل اے-43 اور ایل اے-44 پر ن لیگ کے امیدوار کامیاب قرار پائے، جبکہ ایل اے-40 اور ایل اے-45 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔

کئی حلقوں کے نتائج اب بھی غیر سرکاری اور غیر حتمی ہیں، جبکہ بعض نشستوں پر ووٹوں کی گنتی اور ملتوی پولنگ کے باعث حتمی صورتحال الیکشن کمیشن کے سرکاری اعلان کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق دوسرے مرحلے کے غیر سرکاری نتائج سے مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم چونکہ بعض حلقوں میں پولنگ ملتوی ہوئی ہے اور متعدد نتائج ابھی غیر حتمی ہیں، اس لیے مکمل سیاسی تصویر الیکشن کمیشن کے سرکاری نتائج کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

عوامی رائے

انتخابی نتائج پر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا، جبکہ بعض حلقوں میں ملتوی پولنگ اور غیر حتمی نتائج کے باعث ووٹرز کی نظریں الیکشن کمیشن کے آئندہ اعلانات پر مرکوز ہیں۔

ماہرین کی رائے

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات نہ صرف مقامی سیاست بلکہ قومی سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت کا بھی اہم امتحان تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق حتمی نتائج کے بعد حکومت سازی اور اتحادوں کی صورتحال مزید واضح ہوگی۔

انتخابات کی شفافیت، بروقت نتائج اور تمام مراحل کی تکمیل جمہوری عمل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جن حلقوں میں پولنگ ملتوی ہوئی ہے وہاں آزادانہ اور منصفانہ انتخابی عمل کا انعقاد عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

میری رائے میں انتخابات کے مکمل اور سرکاری نتائج سامنے آنے تک تمام سیاسی جماعتوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کسی بھی کامیابی یا اعتراض کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کے باضابطہ اعلان اور قانونی عمل کی تکمیل کے بعد ہی مناسب ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین