لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پنجاب پولیس کے سابق افسر ظہیر الدین بابر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے موجودہ ڈیزائن کے موٹر سائیکل ہیلمٹ سٹریٹ کرائم اور ٹریفک حادثات میں اضافے کی ایک اہم وجہ بن رہے ہیں۔
ایک یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے سابق سی آئی اے افسر نے کہا کہ پاکستان میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے جس طرز کا ہیلمٹ لازمی قرار دیا گیا ہے، وہ تحفظ فراہم کرنے کے بجائے بعض معاملات میں عدم تحفظ کا سبب بن رہا ہے۔
ان کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں ایسا ہیلمٹ استعمال کیا جاتا ہے جو صرف سر اور ٹھوڑی کے نچلے حصے کو محفوظ بناتا ہے، جبکہ پاکستان میں عام طور پر استعمال ہونے والے فل فیس ہیلمٹ چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپ دیتے ہیں۔
ظہیر الدین بابر کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر اسی خصوصیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی شناخت چھپا لیتے ہیں، جس کے باعث سیف سٹی کیمروں سے بھی ان کی شناخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بطور سی آئی اے افسر جب بھی کسی واردات کی فوٹیج دیکھی جاتی تھی تو متعدد مواقع پر ہیلمٹ کی وجہ سے ملزمان کی شناخت ممکن نہیں ہو پاتی تھی۔
سابق پولیس افسر نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ چہرہ اور اطراف کا منظر محدود ہونے کی وجہ سے موٹر سائیکل سواروں کی دائیں اور بائیں جانب دیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جبکہ بعض اوقات اردگرد کی آوازیں بھی واضح طور پر سنائی نہیں دیتیں، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے بین الاقوامی معیار کے ایسے ہیلمٹ متعارف کرائے جائیں جو بیک وقت بہتر تحفظ بھی فراہم کریں اور غیر ضروری طور پر شناخت چھپانے کا ذریعہ بھی نہ بنیں۔
تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ تمام خیالات سابق پولیس افسر کی ذاتی رائے اور تجربات پر مبنی ہیں۔ خبر میں ان دعوؤں کی تائید کرنے والا کوئی سائنسی مطالعہ، سرکاری اعداد و شمار یا متعلقہ ادارے کا باضابطہ مؤقف شامل نہیں ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق جرائم کی روک تھام اور ٹریفک سیفٹی دونوں اہم عوامی معاملات ہیں۔ اگرچہ سابق پولیس افسر نے اپنے تجربات کی بنیاد پر ایک نقطۂ نظر پیش کیا ہے، تاہم کسی بھی پالیسی میں تبدیلی سے قبل اس موضوع پر سائنسی تحقیق، ٹریفک ماہرین، روڈ سیفٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جامع رائے لینا ضروری ہے۔
عوامی رائے
اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین کی آراء منقسم ہیں۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ مکمل چہرہ ڈھانپنے والے ہیلمٹ سے ملزمان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے، جبکہ دیگر کا مؤقف ہے کہ معیاری ہیلمٹ کا بنیادی مقصد جان بچانا ہے اور اسے ترک کرنے کے بجائے نگرانی اور شناخت کے جدید نظام کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔
ماہرین کی رائے
روڈ سیفٹی ماہرین عمومی طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معیاری اور منظور شدہ ہیلمٹ سر کی شدید چوٹوں اور اموات کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کرتے ہیں۔ اگر شناخت کے حوالے سے مسائل موجود ہوں تو ان کے حل کے لیے نگرانی، قانون نافذ کرنے کے نظام اور ہیلمٹ کے معیار پر الگ سے غور کیا جا سکتا ہے۔
عوامی تحفظ کے دونوں پہلو، یعنی جرائم کی روک تھام اور ٹریفک حادثات سے بچاؤ، یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی نئی پالیسی یا تبدیلی کی بنیاد مستند تحقیق، اعداد و شمار اور متعلقہ ماہرین کی مشاورت ہونی چاہیے۔
میری رائے میں ہیلمٹ کے استعمال پر بحث کرتے وقت دو باتوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ ایک طرف معیاری ہیلمٹ انسانی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اگر شناخت سے متعلق عملی مسائل موجود ہیں تو ان کا حل جدید ٹیکنالوجی، بہتر نگرانی اور مناسب قواعد و ضوابط کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف ہیلمٹ کو تمام مسائل کی بنیادی وجہ قرار دے کر۔





















