لاہور (خصوصی رپورٹ): امریکی جریدے اکانومسٹ کے لیے کیے گئے تازہ یوگوو سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سروے کے مطابق 62 فیصد امریکیوں نے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ 63 فیصد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ امریکا درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہا۔ سروے میں یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ معیشت کے محاذ پر بھی عوام کی بڑی تعداد حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔
سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے اپنے 3 اگست کو شائع ہونے والے ایک کالم میں امریکا میں منظرعام پر آنے والی کتاب ’’رجیم چینج‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس کے اہم نکات بیان کیے ہیں۔
ان کے مطابق تقریباً ایک ہزار انٹرویوز پر مبنی اس کتاب میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے دورِ حکومت میں فوجی طاقت اور ریاستی اختیارات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ ان کی بعض پالیسیوں کے باعث امریکا کے کئی روایتی اتحادی ناراض ہوئے، جس سے عالمی سطح پر مشترکہ سفارتی اور امن کی کوششیں بھی متاثر ہوئیں۔
کتاب میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے دور میں قانون کی حکمرانی، عدالتی خودمختاری اور جمہوری اداروں پر دباؤ بڑھا۔ مصنفین کے مطابق کانگریس کے اختیارات محدود کرنے، شہری آزادیوں کو متاثر کرنے، عدالتی فیصلوں کو چیلنج کرنے، ججز پر تنقید کرنے اور ریاستی اداروں کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے جیسے الزامات بھی زیر بحث لائے گئے ہیں۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھیوں کو قانونی جوابدہی سے بچانے کی کوشش کی اور متعدد مواقع پر خود کو قانون سے بالاتر تصور کرتے ہوئے فیصلے کیے۔ کتاب کے مطابق اگرچہ مختلف حلقوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکیں، جبکہ ان کی مشاورتی ٹیم بھی کئی معاملات پر اختلاف رکھنے کے باوجود بالآخر ان کے مؤقف کے سامنے جھک گئی۔
ملیحہ لودھی کے مطابق کتاب میں ایک اور دعویٰ یہ بھی کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے بعض اہم عہدیدار، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر اور وزیر خارجہ بھی شامل تھے، ایران پر فوجی کارروائی کے حامی نہیں تھے۔ تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن دورے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کر دی





















