ریاض (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ہالی ووڈ اور امریکی ٹیلی ویژن کی دنیا کے معروف اداکار جیانکارلو ایسپوسیتو کے اسلام قبول کرنے کی خبروں نے سوشل میڈیا اور شوبز حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اداکار نے سعودی عرب میں قیام کے دوران اسلام قبول کیا اور بعد ازاں اپنی پروڈکشن ٹیم کے ہمراہ نماز بھی ادا کی۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ترکی الشیخ نے بتایا کہ معروف امریکی اداکار نے سعودی عرب میں کچھ عرصہ گزارنے اور مسلم ساتھیوں کے ساتھ قریبی تعلقات کے بعد اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیانکارلو ایسپوسیتو نے کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام میں داخل ہونے کا اقرار کیا اور بعد ازاں مسجد میں جا کر نماز بھی ادا کی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں اداکار کو اپنی پروڈکشن ٹیم کے ہمراہ نماز ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا، جس کے بعد دنیا بھر میں ان کے مداحوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آنا شروع ہو گئے۔
ترکی الشیخ کے مطابق اداکار نے سعودی عرب میں لوگوں کی مہمان نوازی، باہمی احترام اور گرمجوشی سے متاثر ہو کر یہ اہم فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی معاشرے کے مثبت تجربات نے اداکار کے خیالات پر گہرا اثر ڈالا۔
View this post on Instagram
جیانکارلو ایسپوسیتو کا شمار ہالی ووڈ کے ممتاز اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہیں عالمی شہرت مشہور ٹی وی سیریز بریکنگ بیڈ میں گس فرنگ کے کردار سے حاصل ہوئی جبکہ انہوں نے بیٹر کال سول، دی مینڈیلورین اور متعدد بین الاقوامی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
شوبز ماہرین کے مطابق جیانکارلو ایسپوسیتو کی شخصیت اور اداکاری کو دنیا بھر میں بے حد پسند کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ان سے متعلق ہر خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اداکار اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں وہ "سیون ڈوگز” نامی ایک بڑے پروڈکشن منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ سعودی عرب کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اداکار کے مبینہ فیصلے کا خیر مقدم کیا جبکہ بعض حلقوں نے اس حوالے سے مزید باضابطہ تصدیق سامنے آنے کا انتظار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق عالمی شہرت یافتہ شخصیات سے متعلق ایسی خبریں بہت تیزی سے توجہ حاصل کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے آتی ہے تو یہ خبر بین الاقوامی شوبز حلقوں میں خاصی اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے اداکار کے مبینہ فیصلے پر نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ کئی مداحوں نے ان کی فلمی اور ٹی وی خدمات کو بھی سراہا۔
ماہرین کی رائے
شوبز تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی شخصیات کے مذہبی یا ذاتی فیصلے ہمیشہ عوامی توجہ کا مرکز بنتے ہیں اور ان کے اثرات دنیا بھر کے مداحوں تک پہنچتے ہیں۔
سعودی عرب حالیہ برسوں میں عالمی تفریحی صنعت کا اہم مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔ ایسے میں بین الاقوامی فنکاروں کی وہاں موجودگی اور مختلف سرگرمیوں میں شرکت عالمی سطح پر دلچسپی کا باعث بن رہی ہے۔
میری رائے میں کسی بھی شخصیت کے مذہبی یا ذاتی فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ تاہم ایسی خبروں کے حوالے سے حتمی رائے قائم کرنے سے قبل مستند اور باضابطہ تصدیق کا انتظار کرنا بھی ضروری ہے۔





















