لاہور میں ریکارڈ بارش، اربن فلڈنگ سے شہر مفلوج، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر بارش ریکارڈ، متعدد علاقے زیرِ آب، فلائٹ آپریشن متاثر

لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش نے شہر کا نظامِ زندگی مفلوج کر دیا۔ مسلسل بارش کے باعث متعدد رہائشی علاقے اور اہم شاہراہیں زیرِ آب آ گئیں، نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا، جبکہ اربن فلڈنگ، ٹریفک جام اور سیوریج نظام کی ناکامی نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔

رات سے وقفے وقفے سے جاری بارش کے نتیجے میں شہر کے مختلف حصوں میں پانی کئی کئی فٹ تک جمع ہوگیا۔ کینٹ، ڈیفنس، والٹن، ڈیفنس فیز تھری، کیولری گراؤنڈ اور دیگر علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، جبکہ متعدد گھروں میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا۔

لاہور کینٹ میں شدید بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس کے نتیجے میں علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہوگیا۔ مقامی شہریوں کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے تھے۔

اسی طرح ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ مکمل طور پر زیرِ آب آ گئے۔ مرکزی شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی اور شہریوں کو گھنٹوں گاڑیوں میں پھنسے رہنا پڑا۔

مین ڈیفنس روڈ پر پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی، جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور روزمرہ زندگی شدید متاثر رہی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون بارشوں کا سلسلہ آج بھی وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ بارش کے باعث گرمی اور حبس کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے۔

لاہور میں ریکارڈ بارش

اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ بارش علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129، مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ پر 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب میں 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسیٔ آب کے آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور مختلف علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے ٹیمیں متحرک ہیں۔

شدید بارش سے فلائٹ آپریشن بھی متاثر

شدید بارش کے باعث علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہوا۔ لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی اور استنبول جانے اور آنے والی کم از کم چھ پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔

ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ روانگی سے قبل اپنی پروازوں کے تازہ شیڈول اور معلومات ضرور حاصل کریں تاکہ غیر ضروری پریشانی سے بچا جا سکے۔

صدر مملکت کی ہدایات

صدر آصف علی زرداری نے مون سون بارشوں کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور جان و مال کے تحفظ کے لیے ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

صدر مملکت نے ہدایت کی کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز اور مقامی انتظامیہ باہمی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھیں۔

انہوں نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بارشوں اور آبی صورتحال کی مسلسل نگرانی، نشیبی علاقوں میں پیشگی حفاظتی اقدامات اور حساس مقامات پر ریسکیو وسائل اور امدادی سامان کی فوری تعیناتی کی بھی ہدایت کی۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق لاہور میں ریکارڈ بارش نے ایک بار پھر شہری انفراسٹرکچر، نکاسیٔ آب کے نظام اور اربن فلڈنگ سے نمٹنے کی تیاریوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مون سون کے موجودہ سلسلے کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

عوامی رائے

شہریوں نے سوشل میڈیا پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معمول سے زیادہ بارش کے بعد شہر کا نظام درہم برہم ہو جانا انتظامی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ متعدد افراد نے نکاسیٔ آب کے مستقل اور مؤثر نظام کا مطالبہ بھی کیا۔

ماہرین کی رائے

ماہرینِ موسمیات اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیشِ نظر شہروں کے ڈرینیج سسٹم کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مون سون کی شدید بارشیں ہر سال شہری انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوتی ہیں۔ مؤثر منصوبہ بندی، بروقت نکاسیٔ آب، جدید انفراسٹرکچر اور عوامی آگاہی ہی مستقبل میں اربن فلڈنگ کے خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

میرا تبصرہ

میری رائے میں قدرتی آفات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں، لیکن بہتر شہری منصوبہ بندی، مضبوط نکاسیٔ آب کا نظام اور بروقت انتظامی اقدامات کے ذریعے شہریوں کو درپیش مشکلات اور نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین