’دلہے کا سہرا سہانا لگتا ہے‘ گاتے ہوئے نصرت فتح 150 بار آبدیدہ ہوئے: بھارتی نغمہ نگار

واضح رہے کہ ’دلہے کا سہرا سہانا لگتا ہے‘ کی شاعری سمیر انجان نے لکھی تھی

بھارتی نغمہ نگار سمیر انجان نے انکشاف کیا کہ نصرت فتح علی خان نے فلم ’دھڑکن‘ کے گانے ’دلہے کا سہرا سہانا لگتا ہے‘ کی ریکارڈنگ کے دوران 150 بار روئے، کیونکہ گانے کے بول انہیں اپنی بیٹیوں کی یاد دلاتے تھے۔ یہ گانا فلم کی ریلیز پر بے حد مقبول ہوا۔

ممبئی: بھارت کے مشہور نغمہ نگار سمیر انجان نے بتایا کہ استاد نصرت فتح علی خان نے مقبول گانا ’دلہے کا سہرا سہانا لگتا ہے‘ ریکارڈ کرتے وقت 150 بار آنسو بہائے۔

حال ہی میں ایک انٹرویو میں سمیر انجان نے بتایا کہ جب فلم ’دھڑکن‘ کے گانوں کی تیاری اور ریکارڈنگ ہو رہی تھی، اس وقت نصرت فتح علی خان ممبئی میں موجود تھے۔ سمیر انجان نے موسیقار ندیم شرون کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا کہ پاکستانی گلوکار سے یہ گانا گوانے کی درخواست کی جائے۔

سمیر انجان نے بتایا کہ ندیم شرون نصرت فتح علی خان کے بہت بڑے مداح تھے، لیکن نصرت ہر گانا نہیں گاتے تھے، وہ صرف وہی گانے گاتے تھے جن کی شاعری اور موسیقی انہیں پسند آتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور ندیم شرون نصرت فتح علی خان سے ملے اور انہیں گانے کی شاعری اور موسیقی سنائی، جسے سن کر نصرت گانا گانے کے لیے راضی ہو گئے۔ اس وقت سنی دیول کے میوزک اسٹوڈیو میں ایک نئی ریکارڈنگ مشین آئی تھی، جسے انگریز آپریٹر چلاتے تھے، اور وہ آپریٹر پہلے سے نصرت فتح علی خان کے ساتھ کام کر چکے تھے۔

سمیر انجان نے بتایا کہ جب گانے کی ریکارڈنگ شروع ہوئی اور نصرت فتح علی خان ’میں تیری باہوں کے جھولے میں پلی، بابُل‘ کے بول تک پہنچے تو وہ زار و قطار رونے لگے۔ انہوں نے کہا کہ نصرت کے رونے کی وجہ سے گانے کی ریکارڈنگ بار بار روکنی پڑی، اور جب وہ اس جملے تک پہنچتے، تو دوبارہ رو پڑتے، اور یہ سلسلہ 150 بار چلا۔

سمیر انجان کے مطابق، نصرت فتح علی خان کے بار بار رونے کی وجہ سے انہیں ریکارڈنگ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا گیا، لیکن نصرت نے کہا کہ گانا آج ہی ریکارڈ ہوگا، ورنہ کبھی نہیں ہو پائے گا۔ بالآخر، نصرت فتح علی خان نے گانا مکمل کیا، اور یہ گانا فلم میں شامل ہوتے ہی بے حد مقبول ہو گیا۔

نصرت فتح کے رونے کی وجہ
سمیر انجان نے بتایا کہ جب نصرت فتح علی خان سے رونے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ گانے کے اس جملے کے دوران انہیں اپنی بیٹیوں کی یاد آ جاتی تھی، جس کی وجہ سے وہ رو پڑتے تھے۔

واضح رہے کہ ’دلہے کا سہرا سہانا لگتا ہے‘ کی شاعری سمیر انجان نے لکھی تھی، جبکہ اس کی موسیقی ندیم شرون نے ترتیب دی تھی، اور اسے استاد نصرت فتح علی خان نے گایا تھا۔ یہ گانا 2000 میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ کی ہٹ فلم ’دھڑکن‘ میں شامل کیا گیا تھا، جسے قادر خان، شلپا شیٹی، اور اکشے کمار پر فلمایا گیا تھا۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ جب فلم ’دھڑکن‘ ریلیز ہوئی، اس وقت تک نصرت فتح علی خان کو دنیا سے گئے تین سال ہو چکے تھے، اس لیے ان کی آواز کو مرحوم اداکار قادر خان پر فلمایا گیا تھا۔ نصرت فتح علی خان 16 اگست 1997 کو جگر، گردوں کے امراض سمیت دیگر بیماریوں کی وجہ سے 48 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین