کینیڈا کی ایک نئی تحقیق سے پتا چلا کہ مچھلی کے تیل کے کیپسولز ذیابیطس ٹائپ 2 اور دل کے امراض کا خطرہ کم کر سکتے ہیں۔ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور یہ کیپسولز جسم میں سوزش کو کم کرتے ہیں، انسولین کی کارکردگی بہتر بناتے ہیں، اور خون میں چربی کی مقدار گھٹاتے ہیں، جو صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
مچھلی کے تیل کے کیپسولز صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ذیابیطس ٹائپ 2 اور دل کے امراض کے خطرے کو کم کرنے میں۔ ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے۔
2021 میں دنیا کی 6 فیصد آبادی، یعنی تقریباً 52 کروڑ 90 لاکھ افراد، ذیابیطس کا شکار تھے، جن میں سے زیادہ تر ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر تھے۔ اسی سال اس بیماری کی وجہ سے 16 لاکھ اموات ہوئیں۔ ذیابیطس ٹائپ 2 ایک پیچیدہ مرض ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہے اور جسم کو انسولین بنانے یا اسے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کی وجہ سے جسم کی شوگر، چربی، اور پروٹین کو استعمال کرنے اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس بیماری سے دل کے امراض اور فالج جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
خوش قسمتی سے، ذیابیطس ٹائپ 2 کو روکنا ممکن ہے، اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈز اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مچھلی کے تیل کے کیپسولز میں موجود یہ فیٹی ایسڈز ذیابیطس ٹائپ 2 اور دل کے امراض کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
کینیڈا کے شہر مانیٹریال کے ایک انسٹیٹیوٹ میں کی گئی تحقیق میں 40 صحت مند رضاکاروں کو شامل کیا گیا، جو کوئی دوائی استعمال نہیں کرتے تھے۔ یہ تحقیق 2013 سے 2019 تک جاری رہی۔ ان افراد کو 12 ہفتوں تک اومیگا 3 سپلیمنٹس دیے گئے، جبکہ ان کی معمول کی غذا کو برقرار رکھا گیا۔
تحقیق کے دوران ان رضاکاروں کے کاربوہائیڈریٹس اور چربی کے میٹابولزم کی جانچ کی گئی، اور یہ بھی دیکھا گیا کہ ان کے جسم کا سوزش کے خلاف ردعمل کیسا ہے۔ سوزش جسم کا ایک قدرتی دفاعی عمل ہے جو بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتا ہے، لیکن اگر یہ طویل عرصے تک رہے تو ذیابیطس ٹائپ 2 اور دل کے امراض جیسے دائمی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں پتا چلا کہ مچھلی کے تیل کے کیپسولز استعمال کرنے سے پہلے ان افراد کے خون میں سوزش اور چربی کی مقدار کافی زیادہ تھی۔ لیکن تین ماہ تک ان سپلیمنٹس کے استعمال کے بعد ان کے جسم میں سوزش کی سطح نمایاں طور پر کم ہو گئی۔ اس سے ذیابیطس ٹائپ 2 اور دل کے امراض کے خطرے کو بڑھانے والے عوامل بھی کم ہوئے۔
ان سپلیمنٹس نے ان افراد کے جسم کی انسولین کو استعمال کرنے کی صلاحیت کو بھی بہتر کیا، اور بلڈ شوگر اور جسمانی چربی کے خلاف جسم کی حساسیت بڑھ گئی۔ مچھلی یا اس کے تیل کے کیپسولز کے علاوہ، اومیگا 3 فیٹی ایسڈز السی کے بیجوں سے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن ہمارا جسم نباتاتی ذرائع سے حاصل اومیگا 3 کو ای پی اے (EPA) اور ڈی ایچ اے (DHA) میں تبدیل نہیں کر پاتا۔
ای پی اے اور ڈی ایچ اے وہ فیٹی ایسڈز ہیں جو دل کی صحت کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ دونوں خون میں چربی کی مقدار کو کم کرتے ہیں اور جوڑوں کی تکلیف کو بھی گھٹاتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ سپلیمنٹس ذیابیطس ٹائپ 2 اور دل کے امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ اب وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان سپلیمنٹس کے استعمال سے خون میں چربی کی سطح کیوں کم ہوتی ہے اور دل کے امراض کا خطرہ کیوں گھٹتا ہے۔





















