خیبر پختونخوا مالی لحاظ سے 93 فیصد وفاق پر منحصر ہے،مزمل اسلم

صوبوں پر آئی ایم ایف کی جانب سے بھی دباؤ ہے

پشاور :مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ صوبوں پر آئی ایم ایف کی جانب سے بھی دباؤ ہے۔مزمل اسلم کی زیر نگرانی پری بجٹ مشاورتی اجلاس ہوا، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ خیبر پختونخوا مالی لحاظ سے 93 فیصد وفاق پر منحصر ہے، صوبہ پورے بجٹ کا صرف 7 فیصد محصولات اکٹھا کرتا ہے۔

آئی ایم ایف نے ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری پر عدم اطمینان کر دیا

مزمل اسلم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں باقی صوبوں سے کم محصولات جمع ہوتے ہیں، رواں مالی سال کے پی نے ٹیکس و نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کیا۔مشیر خزانہ کے پی نے کہا کہ پشاور سیف سٹی کیلئے 2 ارب جاری کر دیے گئے ہیں، تاجروں اور صنعتکاروں کے تمام جائز شکایات کا ازالہ کیا جائے گا، تعلیمی اداروں پر ٹیکس کو فکسڈ کر دیا ہے، جو بہت کم ہے۔انہوںنے کہاکہ پچھلے سال پراپرٹی انتقال ٹیکس کو 6.5 فیصد سے 3.5 تک کم کیا ہے، کے پی میں گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس باقی صوبوں سے کم ہے۔

اجلاس کے دوران وزیر ایکسائز نے بتایا کہ پچھلے سال پراپرٹی رینٹل ٹیکس 16 فیصد سے 10 فیصد تک کم کیا ہے، گاڑیوں کی رجسٹریشن کیلیے یونیورسل نمبر پلیٹ اسکیم شروع کی ہے۔سیکریٹری ایکسائز نے کہا کہ ہر ہفتے منگل کا دن سیکریٹری ایکسائز کا اوپن ڈے ہوگا جس میں مسائل سنے جائیں گے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ کارخانوں پر 2020ء سے پہلے بقایاجات کم کرنے کے لیے ایمنسٹی اسکیم پر غور کیا جائے گا، تاجروں اور صنعتکاروں کو بہتر سہولیات دینے کیلیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تاجروں اور صنعتکاروں کے مسائل حل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، تاجروں صنعتکاروں کو بیجا تنگ کرنے والے افسران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین