پیپلز پارٹی ارکان اسمبلی کی صدر زرداری سے ملاقات ، ن لیگ حکومت کیخلاف شکایات کے انبار

ہماری بات سنی نہیں جاتی، ترلے منتیں کر کے بھی صرف دو فیصد کام کروائے جاتے ہیں۔ ہم اپنے حلقوں میں کیسے جائیں؟

لاہور :پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے  لاہور میں صدرپاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کے دوران حکومت کے ناروا سلوک پر جو شکوے اور شکایات کی ہیں اس کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں۔پارٹی ارکان نے کھل کر اپنے تحفظات اور شکایات صدر کے سامنے رکھیں۔

ترلوں منتوں کے بعد 2 فیصد کام ہوتے ہیں 

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے واضح الفاظ میں شکایت کی کہ پنجاب حکومت، جس کی وہ خود اتحادی ہیں، ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ ارکان نے صدر کو بتایا کہ ہماری بات سنی نہیں جاتی، ترلے منتیں کر کے بھی صرف دو فیصد کام کروائے جاتے ہیں۔ ہم اپنے حلقوں میں کیسے جائیں؟ عوام کے سامنے کیا مؤقف اختیار کریں؟ارکان نے مزید انکشاف کیا کہ انہیں پنجاب کے طاقتور سیاسی مرکز "8 کلب” میں داخلے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی، جب کہ تمام محکموں میں صرف مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اسے بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی، اہم فیصلوں میں اعتماد میں نہ لیے جانے کا شکوہ

راشن کارڈز بھی سفارش پر

اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ ان کے حلقوں میں بہت سے افراد ایسے ہیں جنہیں راشن کارڈ تک مہیا نہیں کیے گئے، جب کہ ن لیگی نمائندے جن کا چاہیں نام شامل کروا لیتے ہیں۔ ارکان نے نشاندہی کی کہ بعض افراد نے گھروں کو کرایے پر دے رکھا ہے اور پھر بھی ان کے نام راشن اسکیم میں شامل ہیں، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔

صدر زرداری کا جواب

ارکان اسمبلی کی شکایات پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اطمینان بخش انداز میں جواب دیا، مگر ساتھ ہی سیاسی حقیقت پسندی کا مظاہرہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا مجھے سب پتہ ہے، مگر ان میں اتنی عقل نہیں۔ برا وقت ہو تو پاؤں میں پڑ جاتے ہیں اور جب طاقت ملتی ہے تو گلے پڑ جاتے ہیں۔ جو فارمولا طے پایا تھا، اس پر عمل نہیں ہو رہا۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملکی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کچھ مجبوریوں کے ساتھ ہی سیاست کرنی پڑتی ہے۔

خاتون رکن اسمبلی

ملاقات کے دوران ایک خاتون رکن اسمبلی نے صدر زرداری سے ہلکے پھلکے انداز میں کہاجب آپ لاہور آتے ہیں تو ایوانوں میں زلزلہ آجاتا ہے۔جس پر صدر نے مسکراتے ہوئے جواب دیااگر میں دو تین دن لاہور میں بیٹھوں تو بہت سوں کو پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔یہ جملہ سیاسی حلقوں میں ایک معنی خیز طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صدر مملکت کی موجودگی سے سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

بلدیاتی انتخابات کا امکان، صدر کی ہدایت

صدر آصف علی زرداری نے ارکان اسمبلی کو یہ پیغام بھی دیا کہ اکتوبر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی اطلاعات ہیں، اس لیے وقت ضائع کیے بغیر عوامی سطح پر کاموں کو تیز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھاآپ جتنا ہو سکتا ہے ترقیاتی کام کروائیں۔ بلدیاتی انتخابات ہوں یا عام انتخابات، ہمیں تیار رہنا ہے۔ میں اور بلاول، دونوں پنجاب میں موجود رہیں گے اور تنظیم سازی پر فوکس کریں گے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پارٹی قیادت نے ارکان کے تحفظات متعلقہ ذمہ داران تک پہنچا دیے ہیں اور آئندہ معاملات میں بہتری کی امید ہے۔

بلاول بھٹو کی سفارتکاری کی تعریف

ملاقات کے اختتام پر صدر مملکت نے بلاول بھٹو زرداری کی بین الاقوامی سطح پر کارکردگی کو سراہا اور انہیں ایک تجربہ کار سفارتکار کے طور پر تسلیم کیا۔ ان کے مطابق بلاول نے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، جسے قومی سطح پر سراہا جانا چاہیے۔
صدر زرداری کے تسلی آمیز بیانات اور سیاسی حکمت عملی اپنی جگہ، مگر پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کی شکایات نے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ کیا موجودہ اتحادی حکومت میں پیپلز پارٹی واقعی بااختیار ہے؟ یا اسے صرف مفاہمت اور مجبوری کی سیاست کا سہارا لے کر چلنا پڑ رہا ہے؟

 

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین