دلجیت و ہانیہ کی فلم نے باکس آفس پر نیا ریکارڈ بنا لیا

فلم کا بزنس آنے والے ہفتوں میں 60 کروڑ پاکستانی روپے تک جا سکتا ہے

لاہور: پنجابی فلموں کے سپر اسٹار دلجیت دوسانجھ اور پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کی فلم سردار جی 3 نے پاکستان کے باکس آفس پر ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ فلم نہ صرف شائقین کے دلوں پر راج کر رہی ہے بلکہ پاکستان میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بھارتی فلم بن کر تاریخ رقم کر چکی ہے۔ بھارت میں پابندی کے باوجود، اس فلم نے بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر پاکستان میں، شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی پنجابی سنیما کے عالمی اثر و رسوخ اور پاکستانی شائقین کے جوش و جذبے کی ایک واضح عکاسی ہے۔

سردار جی 3 کی ریکارڈ ساز کامیابی

سردار جی 3، جو ایک ہارر کامیڈی فلم ہے، نے پاکستان میں اپنی ریلیز کے پہلے ہی دن سے شائقین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ فلم نے پاکستان میں اپنے ابتدائی ہفتے میں 21 کروڑ پاکستانی روپے (تقریباً 6.34 کروڑ بھارتی روپے) کا شاندار بزنس کیا۔ یہ کامیابی اس وقت اور بھی قابل ذکر ہو جاتی ہے جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ فلم نے دوسرے ہفتے میں، تعطیلات کے باوجود، مزید 9.50 کروڑ پاکستانی روپے (تقریباً 2.86 کروڑ بھارتی روپے) کمائے۔ تیسرے ہفتے کے ایک دن میں ہی فلم نے 10 کروڑ پاکستانی روپے (تقریباً 3.02 کروڑ بھارتی روپے) کا بزنس کر لیا، جو اس کی مقبولیت کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے۔

اب تک، سردار جی 3 نے پاکستان سے مجموعی طور پر 40.51 کروڑ پاکستانی روپے (تقریباً 12.23 کروڑ بھارتی روپے) کی کمائی کی ہے، جو اسے پاکستان میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بھارتی فلم بناتی ہے۔ اس نے پنجابی فلم کیری آن جٹہ 3 کے ریکارڈ کو توڑ دیا، جو اس سے قبل اس مقام پر فائز تھی۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ فلم کا بزنس آنے والے ہفتوں میں 60 کروڑ پاکستانی روپے تک جا سکتا ہے، جو پنجابی سنیما کے لیے ایک غیر معمولی کامیابی ہوگی۔

بھارت میں پابندی اور عالمی پذیرائی

سردار جی 3 کو بھارت میں ریلیز کی اجازت نہیں ملی، کیونکہ اس میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کی شمولیت اور اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت-پاکستان تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سین ایپلوائیز (FWICE) نے پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ فلم کے پروڈیوسرز نے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فلم کو صرف بین الاقوامی مارکیٹس، جیسے کہ پاکستان، کینیڈا، آسٹریلیا، اور مشرق وسطیٰ میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا۔

دلجیت دوسانجھ نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فلم کی شوٹنگ فروری 2025 میں برطانیہ میں کی گئی تھی، جب دونوں ممالک کے درمیان حالات معمول پر تھے۔ انہوں نے کہا، ’’جب یہ فلم بنائی گئی تھی، تب سب کچھ ٹھیک تھا۔ اس کے بعد بڑے واقعات ہوئے جو ہمارے ہاتھ میں نہیں تھے۔ پروڈیوسرز نے فیصلہ کیا کہ فلم بھارت میں ریلیز نہیں ہوگی، اور وہ اسے عالمی سطح پر ریلیز کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پروڈیوسرز نے بھاری سرمایہ کاری کی تھی، اور عالمی ریلیز ان کی سرمایہ کاری کو بحال کرنے کا ایک طریقہ تھا۔

پاکستان میں، جہاں پنجابی فلموں کو ثقافتی قربت کی وجہ سے بے پناہ پذیرائی ملتی ہے، سردار جی 3 نے شائقین کے دل جیت لیے۔ لاہور اور ملتان کے سنیما گھروں میں فلم کے شو ہاؤس فل رہے، اور سوشل میڈیا پر شائقین کی جانب سے فلم کی کہانی، کامیڈی، اور دلجیت-ہانیہ کی کیمسٹری کی تعریف میں پوسٹس کی بھرمار رہی۔ ایک پاکستانی شائق نے ایکس پر لکھا، ’’دلجیت اور ہانیہ کی جوڑی کمال ہے۔ یہ فلم ہنسی، ڈرامے، اور تفریح کا بہترین امتزاج ہے۔‘‘

فلم کی کہانی اور مقبولیت

سردار جی 3 ایک ہارر کامیڈی فلم ہے جس کی ہدایت کاری امر ہندل نے کی، جبکہ اسے دلجیت دوسانجھ، گنبیر سنگھ سدھو، اور منمورد سدھو نے پروڈیوس کیا۔ فلم میں دلجیت دوسانجھ ایک گھوسٹ ہنٹر جاگی کے کردار میں ہیں، جو اپنے روحانی دوست پنکی کے ساتھ برطانیہ کے ایک پرانے قلعے میں ایک پراسرار کیس کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہانیہ عامر اور نیروباجوہ نے اہم کردار ادا کیے، جبکہ جیسمین باجوہ، گلشن گروور، اور مناو وج معاون کرداروں میں نظر آئے۔ فلم کی موسیقی زیفر سندھو، جانی، اور ہیپی رائیکوٹی نے ترتیب دی، جسے شائقین نے بے حد سراہا۔

فلم کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ اس کا پنجابی ثقافت سے گہرا تعلق اور ہلکی پھلکی کامیڈی ہے، جو پاکستانی ناظرین، خاص طور پر پنجاب کے شائقین کے ساتھ گونج اٹھی۔ فلم کی عالمی ریلیز نے اسے کینیڈا، آسٹریلیا، اور مشرق وسطیٰ میں بھی مقبولیت دلائی، لیکن پاکستان میں اس کی کامیابی نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔ فلم نے نہ صرف سلطان (2016) کے اوپننگ ڈے ریکارڈ کو توڑا بلکہ کیری آن جٹہ 3 کے مجموعی باکس آفس ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

سوشل میڈیا پر جوش و خروش

پاکستان میں سردار جی 3 کی کامیابی نے سوشل میڈیا پر ایک لہر دوڑا دی۔ ایکس پر پوسٹس میں شائقین نے فلم کی کامیابی کو سراہتے ہوئے دلجیت اور ہانیہ کی جوڑی کی تعریف کی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’سردار جی 3 نے ثابت کر دیا کہ اچھا سنیما سرحدوں سے ماورا ہوتا ہے۔ دلجیت اور ہانیہ کی کیمسٹری نے فلم کو ایک نئی جہت دی۔‘‘ لاہور کے یونیورسل سنیماز اور ملتان کے سن ای گولڈ پلیکس نے فلم کے ہاؤس فل شوز کی ویڈیوز شیئر کیں، جنہیں دلجیت نے اپنے انسٹاگرام پر دوبارہ پوسٹ کیا، جس سے پاکستانی شائقین کا جوش و خروش عیاں ہوتا ہے۔

پنجابی فلموں کی عالمی پذیرائی

پاکستان میں پنجابی فلموں کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ثقافتی اور لسانی قربت ہے۔ چونکہ زیادہ تر پنجابی فلمیں برطانیہ یا کینیڈا سے پروڈیوس کی جاتی ہیں، اس لیے ان پر پاکستان میں پابندی نہیں لگتی، جیسا کہ بالی ووڈ فلموں کے ساتھ 2019 سے ہے۔ سردار جی 3 اس کی ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح پنجابی سنیما سرحدوں کو پار کرتے ہوئے ناظرین کے دلوں تک پہنچ رہا ہے۔ پروڈیوسر گنبیر سنگھ سدھو نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پچھلی فلم جٹ اینڈ جولیٹ 3 نے عالمی سطح پر 100 کروڑ روپے کمائے تھے، جن میں سے 40 فیصد بھارت سے تھے۔ سردار جی 3 کی بھارت میں عدم ریلیز کے باوجود، اس نے عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی۔

سردار جی 3 کی پاکستان میں کامیابی پنجابی سنیما کی عالمی مقبولیت اور پاکستانی ناظرین کے جذبے کی ایک شاندار مثال ہے۔ دلجیت دوسانجھ کی اداکاری، ہانیہ عامر کی تازہ دم موجودگی، اور فلم کی ہلکی پھلکی ہارر کامیڈی نے پاکستانی شائقین کو سنیما گھروں تک کھینچ لیا۔ فلم کا 40.51 کروڑ پاکستانی روپے (12.23 کروڑ بھارتی روپے) کا بزنس اور کیری آن جٹہ 3 جیسے مضبوط حریف کو پیچھے چھوڑنا اس کی غیر معمولی پذیرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

تاہم، اس کامیابی کے پیچھے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ بھارت میں فلم کی عدم ریلیز نے پروڈیوسرز کو 40 فیصد متوقع آمدنی سے محروم کر دیا، جو ایک بڑا مالی نقصان ہے۔ اس کے علاوہ، ہانیہ عامر کی کاسٹنگ پر تنازع نے فلم کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹ لیا، جس کی وجہ سے دلجیت دوسانجھ کو بھارت میں تنقید اور بائیکاٹ کی کالز کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، نصیرالدین شاہ اور امتیاز علی جیسے بھارتی فنکاروں کی حمایت نے یہ واضح کیا کہ فن سرحدوں سے بالاتر ہوتا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں، یہ فلم ثقافتی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ پنجابی فلموں کی مقبولیت پاکستانی پنجاب میں ثقافتی رشتوں کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے، جہاں زبان، موسیقی، اور مزاح کی مشترکہ قدریں شائقین کو جوڑتی ہیں۔ تاہم، پاکستان میں سنیما انڈسٹری کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے کہ کم تعداد میں سنیما اسکرینز اور مہنگائی کی وجہ سے محدود ناظرین۔ اس کے باوجود، سردار جی 3 کی کامیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اچھا مواد ہر رکاوٹ کو پار کر سکتا ہے۔

مستقبل میں، اگر پاکستانی اور بھارتی فنکار مل کر ایسی فلمیں بناتے رہے، تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی رابطوں کو مضبوط کرے گی بلکہ عالمی سطح پر پنجابی سنیما کے اثر و رسوخ کو بھی بڑھائے گی۔ تاہم، اس کے لیے سیاسی تناؤ کو کم کرنے اور فنکاروں کے لیے آزادانہ ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ سردار جی 3 کی کامیابی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ فن اور تفریح سرحدوں کو توڑنے کی طاقت رکھتے ہیں، اور یہ کہ پاکستانی ناظرین کا جوش پنجابی سنیما کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین