“کاکروچ” کہنے پر نوجوان بھڑک اٹھے، بھارت میں “کاکروچ جنتا پارٹی” وائرل

آج کے نوجوان ہر جگہ پھیل جاتے ہیں لیکن ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔بھارتی جج

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)بھارت میں ایک جج کے متنازع ریمارکس کے بعد نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ تحریک شروع کر دی، جسے “کاکروچ جنتا پارٹی” کا نام دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایک عدالتی سماعت کے دوران جج نے بھارتی نوجوانوں کو “کاکروچ” سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان ہر جگہ پھیل جاتے ہیں لیکن ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔

جج کے اس بیان کے بعد بھارتی جین زی (Gen Z) نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیتے ہوئے “کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے ایک علامتی اور طنزیہ آن لائن مہم شروع کردی۔

اطلاعات کے مطابق صرف پانچ دن کے اندر اس طنزیہ تحریک کے سوشل میڈیا فالوورز کی تعداد 11.1 ملین تک پہنچ گئی جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے تقریباً 8.8 ملین فالوورز بتائے جا رہے ہیں۔

نوجوانوں کی جانب سے بنائے گئے اس گروپ کا مقصد بے روزگاری، نوجوانوں کے مسائل، اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی رویوں کے خلاف آواز بلند کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں لکھا گیا کہ “جب انڈیا کو گٹر بناؤ گے تو یہاں کاکروچ ہی پیدا ہوں گے”، جس کے بعد یہ جملہ بھی ٹرینڈ کرنے لگا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق بھارت میں نوجوان طبقہ اب روایتی سیاسی بیانیے سے ہٹ کر طنز، میمز اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے اپنا ردعمل ظاہر کر رہا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ “کاکروچ جنتا پارٹی” دراصل نوجوانوں کی مایوسی، بے روزگاری اور سیاسی عدم اطمینان کی علامتی شکل بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں سوشل میڈیا اب صرف تفریح کا پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ نوجوان اسے سیاسی احتجاج اور عوامی رائے سازی کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق کسی جج یا سرکاری شخصیت کی جانب سے نوجوانوں کیلئے توہین آمیز الفاظ کا استعمال الٹا ردعمل پیدا کرتا ہے، جس کی تازہ مثال یہی آن لائن مہم ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر بھارتی نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اس مہم کی حمایت کی جبکہ کئی صارفین نے اسے “ڈیجیٹل احتجاج” قرار دیا۔

کچھ افراد نے جج کے بیان کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل سننے کے بجائے انہیں طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب بعض صارفین نے اس پوری مہم کو محض سوشل میڈیا اسٹنٹ اور طنزیہ ٹرینڈ قرار دیا۔

تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں نوجوان ووٹرز کا رویہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور وہ روایتی سیاست سے زیادہ ڈیجیٹل اظہار کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے طنزیہ آن لائن گروپس مستقبل میں سیاسی جماعتوں کیلئے بھی دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ نوجوان نسل سوشل میڈیا کو طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ رجحان صرف بھارت تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں Gen Z سیاسی اظہار کیلئے میمز، طنز اور ڈیجیٹل تحریکوں کا سہارا لے رہی ہے۔

کیا سوشل میڈیا پر اب طنزیہ تحریکیں روایتی سیاسی جماعتوں کیلئے نیا چیلنج بنتی جا رہی ہیں؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین