لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)پاکستان میں کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہزاروں طلبہ اور ان کے والدین کے لیے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے نیشنل اسکل کمپیٹنسی ٹیسٹ (National Skill Competency Test) 2026 میں ناقص نتائج سامنے آنے پر ملک کی 44 جامعات کے کمپیوٹنگ اور کمپیوٹر سائنس پروگراموں میں داخلے عارضی طور پر روک دیے ہیں۔
ڈی جی کوالٹی ایشورنس ناصر شاہ کے انتہائی قریبی ذرائع کے مطابق ایچ ای سی نے یہ فیصلہ اعلیٰ تعلیمی معیار کو یقینی بنانے کے لیے کیا ہے، کیونکہ ان جامعات کے طلبہ کی بڑی تعداد مذکورہ ٹیسٹ میں مطلوبہ معیار حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمزور کارکردگی دکھانے والی 10 جامعات کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔ ایچ ای سی نے طلبہ اور والدین کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی کمپیوٹنگ یا کمپیوٹر سائنس پروگرام میں داخلہ لینے سے قبل متعلقہ جامعہ یا ادارے کی موجودہ حیثیت اور منظوری کی تصدیق ضرور کر لیں۔
ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں مجموعی طور پر 44 جامعات اور تعلیمی اداروں کو شامل کیا گیا۔ ان جامعات اور اداروں میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف جھنگ، الحمد اسلامک یونیورسٹی کوئٹہ، سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام، کوہسار یونیورسٹی مری، یونیورسٹی آف مکران پنجگور، ویمن یونیورسٹی ملتان، گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، شہید بینظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور، یونیورسٹی آف صوابی، بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کراچی، یونیورسٹی آف بلتستان اسکردو، لاہور لیڈز یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف لورالائی، پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد، ویمن یونیورسٹی صوابی، چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور، نادرن یونیورسٹی نوشہرہ، یونیورسٹی آف کوٹلی آزاد کشمیر، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور، گرین انٹرنیشنل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لکی مروت، علما یونیورسٹی کراچی، یونیورسٹی آف فاٹا درہ آدم خیل، بیگم نصرت بھٹو وومن یونیورسٹی سکھر، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ، محی الدین اسلامک یونیورسٹی ترکھل آزاد کشمیر، ایم این ایس یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان، یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک، دی یونیورسٹی آف لاڑکانہ، ویمن یونیورسٹی مردان، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار، الحمد اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس، یونیورسٹی آف بونیر، یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، ویمن یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر باغ، برینز انسٹی ٹیوٹ پشاور، ایمان انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ سائنسز کراچی، غازی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز ڈیرہ غازی خان، یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ، ملینیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ (MITE) کراچی اور شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سکرنڈ شامل ہیں۔
ایچ ای سی کے مطابق یہ فیصلہ کمپیوٹنگ پروگراموں کے معیار، نصاب، فیکلٹی اور تدریسی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لینے کے مقصد سے کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو معیاری اور بہتر تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کے حوالے سے ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی جیسے شعبے جہاں دنیا بھر میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، وہاں کسی بھی تعلیمی کمزوری کا براہ راست اثر طلبہ کے مستقبل اور ملک کی ڈیجیٹل اکانومی پر پڑتا ہے۔ ایچ ای سی کا یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب محض ڈگریاں جاری کرنا کافی نہیں رہا بلکہ حقیقی مہارت اور عملی استعداد کو بھی معیار بنایا جا رہا ہے۔
44 جامعات میں داخلوں کی معطلی ایک بڑا قدم ضرور ہے، تاہم یہ بھی ایک وارننگ ہے کہ کئی تعلیمی ادارے نصاب، فیکلٹی اور تدریسی معیار میں مطلوبہ سطح برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر اس صورتحال کو بروقت درست نہ کیا گیا تو نہ صرف طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوگا بلکہ ملک میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی بھی پیدا ہو سکتی ہے جو آئی ٹی انڈسٹری کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
دوسری جانب یہ اقدام جامعات کے لیے ایک اصلاحی موقع بھی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی ڈھانچے کو بہتر بنائیں، جدید تقاضوں کے مطابق نصاب کو اپڈیٹ کریں اور فیکلٹی کی تربیت پر توجہ دیں۔ اگر یہ عمل شفاف اور میرٹ پر مبنی رہا تو اس کے مثبت نتائج مستقبل میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتے ہیں۔





















