تہران / واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو کھلا چیلنج دے دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو ایران پوری طاقت سے اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے بعد ایران نے بھی بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر ممکن کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے دوٹوک الفاظ میں کہا، ’’آؤ! ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران خارگ جزیرے کے خلاف کسی بھی ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کا بھرپور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جارحانہ زبان اور دھمکیاں نہ تو ایرانی قوم کے وقار کو متاثر کر سکتی ہیں اور نہ ہی اس کے عزم کو کمزور کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئیں۔
دوسری جانب ایران مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور امریکی اقدامات کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دے رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی اور فوجی سرگرمیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان سخت بیانات اور فوجی دھمکیوں کا یہ سلسلہ خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بقول اگر سفارتی کوششیں مؤثر ثابت نہ ہوئیں تو کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود رہے گا، جس کے اثرات عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض صارفین نے ایران کے سخت مؤقف کی حمایت کی، جبکہ دیگر نے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی فریق کی مزید عسکری کارروائی خطے میں وسیع پیمانے پر عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق سفارت کاری ہی اس بحران سے نکلنے کا مؤثر راستہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں تحمل، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور سفارتی رابطوں کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
میری رائے میں سخت بیانات وقتی طور پر سیاسی مؤقف کو مضبوط ضرور بنا سکتے ہیں، لیکن دیرپا امن صرف مذاکرات، اعتماد سازی اور سفارتی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ موجودہ صورتحال میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی پورے خطے کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔





















