ہمارے ہزار میزائل ایران کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں، ٹرمپ کی نئی دھمکی

ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن فوجی ردعمل کا عندیہ

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے خلاف ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی قاتلانہ کارروائی کی گئی تو امریکا بھرپور فوجی جواب دے گا، جس کے لیے ایک ہزار میزائل پہلے ہی تیار رکھے گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی فوج کو واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ اگر ایران کی جانب سے ان کی جان کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کا فوری، سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس ایران کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ہزار میزائل مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید ہزاروں میزائل بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے بقول امریکا اپنی قومی سلامتی اور قیادت کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات، فوجی سرگرمیوں اور الزامات کے تبادلے نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں ایران میں ہونے والے بعض اجتماعات میں صدر ٹرمپ کے خلاف سخت نعرے بھی لگائے گئے، جس کے بعد امریکی حکام نے ممکنہ سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب ایرانی حکام ماضی میں بھی ٹرمپ کے اس نوعیت کے بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیتے رہے ہیں۔ ایران کا مؤقف رہا ہے کہ دھمکی آمیز بیانات خطے میں کشیدگی کم کرنے کے بجائے مزید بڑھانے کا باعث بنتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ بدستور برقرار ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان سخت بیانات کی موجودہ لہر دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی بیان بازی نہ صرف سفارتی ماحول کو متاثر کرتی ہے بلکہ خطے میں سکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے بیان پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے اسے طاقت کا اظہار قرار دیا، جبکہ دیگر نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرنے پر زور دیا۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سخت بیانات سے کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔

عالمی سیاست میں طاقت کا اظہار وقتی سیاسی فائدہ دے سکتا ہے، مگر دیرپا امن ہمیشہ سفارت کاری، مذاکرات اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ ایسے حساس حالات میں محتاط بیانات اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ناگزیر ہیں۔

میری رائے میں موجودہ حالات میں سخت دھمکیوں اور جوابی بیانات کے بجائے سفارتی راستوں کو ترجیح دینا زیادہ مؤثر ہوگا۔ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی نئی کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن، توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین