آئندہ حملہ ہوا تو پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دیں گے، ایران کی واضح وارننگ

مسلح افواج ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے،ایرانی فوج

تہران (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت یا حملہ کیا گیا تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت، مؤثر اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔

آپریشن مرصاد کی سالگرہ کے موقع پر جاری کیے گئے ایک بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ ملک کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات، دشمن کی ممکنہ سازشوں اور سکیورٹی چیلنجز پر پہلے سے زیادہ گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایرانی افواج پہلے سے کہیں زیادہ چوکس اور مستعد ہیں اور ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار رہیں گی۔

ایرانی فوج کے مطابق ملک کی آزادی، سرحدوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کا دفاع اس کی اولین ترجیح ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اگر مستقبل میں کسی بھی فریق نے ایران کے خلاف جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور مؤثر انداز میں دیا جائے گا۔

فوج نے مزید کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری اور مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

یہ بیان ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے ذریعے جاری کیا گیا، جس میں آپریشن مرصاد کو ایران کی دفاعی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی فوج کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ایران مختلف علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کے تناظر میں اپنی دفاعی تیاریوں پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات کا مقصد ایک طرف ملکی عوام کو اعتماد دینا اور دوسری طرف ممکنہ مخالفین کو سخت پیغام دینا بھی ہوتا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران کی حالیہ وارننگ خطے میں جاری کشیدگی اور دفاعی بیانات کے تسلسل کا حصہ ہے۔ اس قسم کے اعلانات عام طور پر عسکری تیاری، دفاعی حکمتِ عملی اور سیاسی پیغام رسانی کے لیے کیے جاتے ہیں۔ تاہم ایسے دعوؤں اور انتباہات کو متعلقہ فریقوں کے سرکاری مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ان کے عملی اثرات کا انحصار آئندہ پیش رفت پر ہوگا۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر ایرانی فوج کے بیان پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے اسے ایران کے دفاعی عزم کا اظہار قرار دیا، جبکہ دیگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس نوعیت کے سخت بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور اور دفاعی ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات کا مقصد صرف فوجی تیاری کا اظہار نہیں بلکہ سفارتی اور نفسیاتی پیغام دینا بھی ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک موجودہ حالات میں کسی بھی نئی فوجی کشیدگی سے بچنے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی متعدد تنازعات کا شکار ہے، اس لیے تمام فریقوں کو ایسے اقدامات اور بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو مزید کشیدگی کا باعث بنیں۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے بات چیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی مؤثر راستہ ثابت ہو سکتی ہے۔

میری رائے میں اس طرح کے سخت بیانات موجودہ علاقائی حالات کی حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم دیرپا استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ممالک فوجی کشیدگی کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں، کیونکہ کسی بھی نئے تصادم کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین