لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)لاہور کی فیملی کورٹ نے سوشل میڈیا اسٹار ڈاکٹر نبیحہ علی کی جانب سے خلع کی ڈگری کے حصول کے لیے دائر درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔
کیس کی سماعت لاہور کی فیملی کورٹ میں ہوئی، جہاں ڈاکٹر نبیحہ علی کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ مدثر چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر نبیحہ علی اور ان کے شوہر کے درمیان باہمی معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں، جس کے باعث اب خلع کی کارروائی جاری رکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔
ایڈووکیٹ مدثر چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ خلع کی ڈگری کے لیے دائر درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست واپس لینے کی اجازت دیتے ہوئے ڈاکٹر نبیحہ علی کی خلع کی درخواست خارج کر دی، جس کے ساتھ ہی مقدمہ نمٹا دیا گیا۔
عدالتی کارروائی کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ فریقین کے درمیان تنازع باہمی افہام و تفہیم سے حل ہو چکا ہے، تاہم عدالت میں اس حوالے سے مزید تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق خاندانی نوعیت کے مقدمات میں اگر فریقین باہمی رضامندی سے اختلافات ختم کر لیں تو عدالتیں عموماً درخواست واپس لینے کی اجازت دے دیتی ہیں۔ ایسے فیصلے خاندانی تنازعات کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر اس خبر پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد صارفین نے فریقین کے درمیان صلح کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، جبکہ بعض صارفین نے ذاتی نوعیت کے معاملات میں رازداری برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق اگر درخواست گزار اپنی مرضی سے خلع کی درخواست واپس لے لے اور عدالت مطمئن ہو کہ یہ فیصلہ آزادانہ طور پر کیا گیا ہے تو عدالت درخواست خارج کر سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں اصل اہمیت فریقین کی باہمی رضامندی کو حاصل ہوتی ہے۔
خاندانی تنازعات کا باہمی افہام و تفہیم سے حل معاشرے کے لیے مثبت پیغام ہوتا ہے۔ اگر اختلافات بات چیت سے ختم ہو جائیں تو عدالتی کارروائی کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔
میری رائے میں خاندانی معاملات میں باہمی احترام، برداشت اور گفت و شنید کو ہمیشہ ترجیح دینی چاہیے۔ اگر فریقین رضامندی سے اپنے اختلافات ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ خاندان اور معاشرے کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہوتی ہے۔





















