بلڈ پریشر کی پرانی دوا بچوں کی خطرناک دماغی بیماری کی رفتار سست کرنے میں مؤثر

تحقیق میں اہم پیش رفت، نایاب اور جان لیوا دماغی بیماری میں دوا کے ممکنہ فائدے کے شواہد سامنے آگئے

ایمسٹرڈیم:نیدرلینڈز کے ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میڈیکل سینٹرز کی قیادت میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بلڈ پریشر کے علاج میں استعمال ہونے والی پرانی دوا گوانابینز بچوں میں ایک نایاب اور جان لیوا دماغی بیماری کی پیش رفت سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تحقیق میں Vanishing White Matter (VWM) نامی نایاب موروثی دماغی بیماری کا جائزہ لیا گیا، جو زیادہ تر کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں دماغ کے سفید مادے کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں بتدریج متاثر ہونے لگتی ہیں اور شدید صورت میں یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

گوانابینز لینے والے بچوں کے نتائج بہتر رہے

محققین نے گوانابینز استعمال کرنے والے بچوں کی تقریباً تین سال تک نگرانی کی اور ان کے نتائج کا موازنہ بین الاقوامی رجسٹری میں شامل 66 ایسے بچوں سے کیا جنہیں یہ دوا نہیں دی گئی تھی۔

تحقیق کے مطابق گوانابینز استعمال کرنے والے بچوں میں وہیل چیئر پر انحصار کم رہا اور یہ ضرورت نسبتاً دیر سے پیدا ہوئی۔

مزید یہ کہ تحقیق کے دوران گوانابینز لینے والے گروپ میں کسی بچے کی موت نہیں ہوئی، جبکہ موازنے کے گروپ میں شامل 66 بچوں میں سے 5 بچے انتقال کر گئے۔

بیماری کی رفتار متاثر ہونے کا امکان

تحقیق سے وابستہ ماہرین کے مطابق یہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے کہ VWM جیسی مہلک دماغی بیماری کی رفتار کو ممکنہ طور پر متاثر کیا جا سکتا ہے۔

ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میڈیکل سینٹرز پہلے ہی VWM کے لیے گوانابینز پر کلینیکل تحقیق کر رہا ہے اور اس بیماری کے مؤثر علاج کی تلاش جاری ہے۔

دوا کے مضر اثرات بھی سامنے آئے

محققین کے مطابق گوانابینز کے استعمال کے دوران کچھ مضر اثرات بھی دیکھے گئے، جن میں غنودگی، قبض، کم بلڈ پریشر اور بعض صورتوں میں ہذیان شامل تھے۔

یہ اثرات زیادہ تر علاج کے ابتدائی مہینوں میں سامنے آئے، تاہم تقریباً چار سے چھ ماہ کے بعد بچوں نے دوا کو عمومی طور پر بہتر طور پر برداشت کرنا شروع کردیا۔

ماہرین کے لیے اہم پیش رفت

محققین کے مطابق نتائج VWM جیسی نایاب بیماری کے علاج کے حوالے سے امید کی ایک نئی کرن فراہم کرتے ہیں، تاہم مزید طبی تحقیق کے ذریعے یہ جانچنا ضروری ہوگا کہ گوانابینز کس حد تک بیماری کی پیش رفت کو روکنے یا سست کرنے میں مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

یہ تحقیق معروف طبی جریدے دی لانسٹ نیورولوجی میں شائع ہوئی ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق تحقیق کے نتائج طبی میدان میں ایک اہم پیش رفت ضرور ہیں، تاہم اسے VWM کا حتمی علاج قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ مزید کلینیکل تحقیق کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی دوا کی افادیت اور طویل مدتی اثرات کے بارے میں واضح نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔

عوامی رائے

اس تحقیق کے نتائج نایاب دماغی بیماریوں میں مبتلا بچوں کے والدین کے لیے امید پیدا کر سکتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق ایسی دوا کا استعمال صرف مستند طبی مشورے اور ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق گوانابینز کے نتائج اس لحاظ سے اہم ہیں کہ VWM ایک نایاب اور سنگین بیماری ہے جس کے مؤثر علاج کے محدود آپشنز موجود ہیں۔ تاہم دوا کے ممکنہ مضر اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اس لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔

نایاب اور جان لیوا بیماریوں کے علاج میں کسی پرانی دوا کے نئے ممکنہ استعمال کی دریافت طبی تحقیق کے لیے اہم پیش رفت ہوتی ہے۔ تاہم ابتدائی نتائج کو حتمی علاج سمجھنے کے بجائے مزید تحقیق اور طبی شواہد کا انتظار کرنا ضروری ہے۔

میری رائے میں اس تحقیق کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک ایسی بیماری جس کی رفتار کو متاثر کرنا بھی مشکل سمجھا جاتا ہے، اس میں ایک پرانی دوا سے ممکنہ فائدے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ اگر آئندہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تحقیقات بھی ان نتائج کی تصدیق کرتی ہیں تو VWM سے متاثرہ بچوں کے علاج میں ایک نیا راستہ کھل سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین