یوسین بولٹ سے تیز دوڑنے والے روبوٹ کا بریک فیل، ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا

45.6 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے والے ’سپرمین‘ روبوٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، کمپنی نے اسے ابھی پروٹوٹائپ قرار دے دیا

چین (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)چینی روبوٹکس کمپنی یونٹری روبوٹکس کے تیار کردہ ہیومنائیڈ روبوٹ ’سپرمین‘ نے تیز ترین رفتار سے دوڑنے کا ریکارڈ قائم کرنے کے بعد ایک حادثے کی وجہ سے بھی توجہ حاصل کرلی۔

کمپنی کے مطابق سپرمین روبوٹ نے 12.66 میٹر فی سیکنڈ، یعنی تقریباً 45.6 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ کر دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ کی ریکارڈ شدہ بلند ترین رفتار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

روبوٹ نے 2 میٹر بلند چھلانگ بھی لگائی

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق سپرمین نے اپنی جگہ کھڑے ہو کر تقریباً 2 میٹر بلند چھلانگ لگانے کا مظاہرہ بھی کیا۔

یونٹری روبوٹکس کا کہنا ہے کہ اس روبوٹ کو صرف تین ماہ سے کچھ زیادہ عرصے میں تیار کیا گیا ہے، جسے روبوٹکس کے میدان میں ایک اہم تجربہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ریکارڈ کے فوراً بعد روبوٹ حادثے کا شکار

تاہم تیز رفتار دوڑ کے مظاہرے کے فوراً بعد سپرمین روبوٹ کے حوالے سے ایک دلچسپ صورتحال سامنے آگئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں روبوٹ کو تیز رفتاری کے بعد بروقت رکنے میں ناکام ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایک الیکٹریکل باکس سے جا ٹکرایا۔

واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے اور روبوٹ کی رفتار کے ساتھ اس کے بریکنگ، توازن اور کنٹرول سسٹم کی اہمیت پر بھی سوالات اٹھائے۔

کمپنی نے روبوٹ کو پروٹوٹائپ قرار دے دیا

یونٹری روبوٹکس کے مطابق ’سپرمین‘ ابھی مکمل تیار شدہ تجارتی روبوٹ نہیں بلکہ پروٹوٹائپ ہے اور اس کی تیاری و آزمائش کا عمل ابھی جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق ہیومنائیڈ روبوٹس میں صرف زیادہ رفتار حاصل کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ انہیں محفوظ طریقے سے روکنے، توازن برقرار رکھنے اور اچانک صورتحال میں خود کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی انتہائی اہم ہوتی ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق سپرمین روبوٹ کی رفتار یقیناً متاثر کن ہے، لیکن اس کے بعد پیش آنے والا حادثہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید روبوٹکس میں رفتار کے ساتھ حفاظتی نظام بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ چونکہ روبوٹ ابھی پروٹوٹائپ مرحلے میں ہے، اس لیے ایسے تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج آئندہ ماڈلز کی بہتری میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا صارفین نے روبوٹ کی ریکارڈ رفتار کو حیران کن قرار دیا، جبکہ حادثے کی ویڈیو پر بعض صارفین نے مزاحیہ تبصرے بھی کیے۔ کئی افراد کا کہنا تھا کہ روبوٹ کے لیے تیز دوڑنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ وقت پر رکنے اور اپنا توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

ماہرین کی رائے

روبوٹکس کے ماہرین کے مطابق مستقبل کے ہیومنائیڈ روبوٹس میں رفتار، مصنوعی ذہانت، توازن اور حفاظتی نظام کو ایک ساتھ بہتر بنانا ہوگا۔ خاص طور پر انسانوں کے درمیان کام کرنے والے روبوٹس کے لیے اچانک رکنے اور راستے میں موجود رکاوٹوں سے بچنے کی صلاحیت انتہائی اہم ہوگی۔

چینی کمپنی کا یہ تجربہ روبوٹکس کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے میدان کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ تاہم ریکارڈ رفتار کے ساتھ پیش آنے والا حادثہ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ٹیکنالوجی میں صرف رفتار کا ریکارڈ کافی نہیں، بلکہ حفاظت اور قابلِ اعتماد کنٹرول بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔

میری رائے میں سپرمین روبوٹ کی 45.6 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار حیران کن پیش رفت ہے، لیکن اس واقعے کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ریکارڈ رفتار کے فوراً بعد اسے روکنے کا مسئلہ سامنے آگیا۔ چونکہ یہ ابھی پروٹوٹائپ ہے، اس لیے ممکن ہے کہ مستقبل کے ماڈلز میں بریکنگ اور کنٹرول سسٹم کو مزید بہتر بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین