ٹرمپ کا ایران کو انتباہ، امریکا کسی بھی وقت دوبارہ حملہ کرسکتا ہے

آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جاری ہے، امریکی صدر

واشنگٹن:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ضرورت پڑنے پر ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتا ہے اور آئندہ کارروائی طویل نہیں ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف گزشتہ کارروائی انتہائی شدید تھی اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو امریکا دوبارہ فوجی اقدام کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں اور امریکا تہران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جاری ہے اور روزانہ لاکھوں بیرل تیل اس اہم عالمی آبی گزرگاہ سے منتقل ہو رہا ہے۔

تاہم تازہ رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو حالیہ فوجی کشیدگی سے شدید خطرات لاحق ہیں اور خطے میں تیل کی عالمی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔

خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ

امریکی صدر کی جانب سے دوبارہ حملے کی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر فوجی کارروائیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے ایران میں ریڈار، فضائی دفاعی نظام، بحری تنصیبات اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران کی جانب سے بھی خطے میں امریکی تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائی کی گئی۔

ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل اور آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت پر اس کے اثرات پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل فوجی دھمکیوں اور کارروائیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت کے باعث یہاں پیدا ہونے والی صورتحال عالمی توانائی کی منڈی کو براہِ راست متاثر کرسکتی ہے۔

عوامی رائے

عوامی سطح پر جنگ کے مزید پھیلاؤ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات موجود ہیں۔ لوگوں کی بڑی تشویش یہ ہے کہ نئی فوجی کارروائی خطے کو ایک طویل تنازع کی طرف نہ دھکیل دے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہونے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ موجود ہے۔ اس لیے فوجی دباؤ کے ساتھ سفارتی کوششوں کو بھی جاری رکھنا ضروری ہے۔

ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کا اہم راستہ ہے، اس لیے اس کی سلامتی صرف امریکا اور ایران نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔

جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان مزید حملوں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے تو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کو ایک بڑے بحران سے بچایا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین