امریکا کا ایران کے حامی ممالک کو واضح پیغام، تجارت جاری رکھی تو پابندیاں لگیں گی

کوئی بھی ملک ایران کو پابندیوں سے بچنے میں مدد نہ دے،مارکو روبِیو

واشنگٹن:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبِیو نے ایران کے ساتھ تجارت یا دیگر اقتصادی روابط رکھنے والے ممالک کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو ریاستیں ایران کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کریں گی، انہیں خود بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مارکو روبِیو نے ایک انٹرویو کے دوران ایران کے ساتھ مختلف ممالک کے بڑھتے ہوئے رابطوں اور خصوصاً بھارت اور ایران کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی تجارتی معاہدہ طے پا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک اپنی اپنی آزاد خارجہ پالیسیاں رکھتے ہیں اور کئی ممالک ایران کے ساتھ سفارتی و تجارتی رابطے برقرار رکھتے ہیں، تاہم واشنگٹن کی تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی ملک ایران کو امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے باقاعدہ راستہ یا نظام فراہم کرے۔

روبِیو نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف اس معاملے میں واضح ہے کہ کوئی بھی ملک ایران کو پابندیوں سے بچنے میں مدد نہ دے۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کو ایسی سہولت فراہم نہیں کی جانی چاہیے جس کے ذریعے تہران اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکے اور اس رقم کو ایسے مقاصد کے لیے استعمال کرے جنہیں امریکا اپنے لیے اور خطے کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ ایران پابندیوں سے بچ کر حاصل ہونے والی آمدنی کو مسلح گروہوں کی حمایت اور جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ روبِیو کے مطابق اسی وجہ سے امریکا ایسے ممالک کو بھی نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے جو ایران کے لیے پابندیوں سے بچنے کا کوئی مالی یا تجارتی راستہ پیدا کریں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ملک جان بوجھ کر ایران کے لیے ایسا نظام قائم کرتا ہے جس سے تہران امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آمدنی حاصل کر سکے تو امریکا اس ملک پر بھی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے صرف براہِ راست پابندیوں تک محدود رہنے کے بجائے ان ممالک اور اداروں کو بھی دائرے میں لانا چاہتی ہے جو ایران کے ساتھ مالی یا تجارتی معاملات میں معاونت کریں۔

مارکو روبِیو کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ مختلف ممالک کے اقتصادی اور سفارتی روابط عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر بھارت اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی اور امریکی پابندیوں کے ماحول میں ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کس حد تک واشنگٹن کے دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ملاقات بھی ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ بھارتی قیادت کی جانب سے ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تجارت کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

بھارتی مؤقف یہ رہا ہے کہ خطے میں موجود تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، جبکہ تجارت اور علاقائی روابط کو بھی جاری رکھا جائے۔ دوسری جانب امریکا ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے اور تہران کی آمدنی کے ذرائع محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی اختلاف مستقبل میں واشنگٹن اور ایران کے ساتھ روابط رکھنے والے دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔

ایران کے ساتھ تجارت کے معاملے میں بھارت کی پوزیشن خاص طور پر اہم ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے سفارتی اور تجارتی تعلقات موجود ہیں۔ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ بھی بھارت کے لیے خطے میں ایک اہم تجارتی منصوبہ تصور کی جاتی ہے، جس کے ذریعے بھارت افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

امریکی دباؤ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کو حاصل ہونے والے مالی وسائل محدود کیے جائیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے تہران کو اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ روبِیو کے تازہ بیان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف اقتصادی محاذ کو مزید وسیع کرنے کے لیے تیار ہے۔

دوسری طرف ایران اور اس کے ساتھ تعلقات رکھنے والے ممالک کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے عائد پابندیاں صرف براہِ راست ایرانی اداروں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ بعض صورتوں میں ایسے غیر ملکی ادارے اور ممالک بھی دباؤ کی زد میں آ سکتے ہیں جو واشنگٹن کے مطابق پابندیوں سے بچنے میں تہران کی مدد کر رہے ہوں۔

مارکو روبِیو کا تازہ بیان دراصل امریکا کی ایران پالیسی کے ایک اہم پہلو کو واضح کرتا ہے۔ واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کو بھی محتاط کرنا چاہتا ہے جو تہران کے ساتھ اقتصادی روابط برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ پالیسی مزید سخت ہوتی ہے تو ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو ایک مشکل توازن قائم کرنا پڑ سکتا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور امریکا کے دباؤ کے درمیان کس طرح راستہ نکالتے ہیں۔

خاص طور پر بھارت کے لیے صورتحال حساس ہے کیونکہ نئی دہلی ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی اور علاقائی مفادات کو بھی اہمیت دیتا ہے جبکہ امریکا کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات بھی موجود ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ اس بات کا امتحان بن سکتا ہے کہ بڑی علاقائی طاقتیں امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی آزاد خارجہ پالیسی کو کس حد تک عملی شکل دے سکتی ہیں۔

عوامی رائے

عوامی سطح پر اس نوعیت کی امریکی دھمکیوں کو عالمی تجارت اور خودمختاری کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ ہر ملک کو اپنے قومی مفادات کے مطابق تجارت اور خارجہ تعلقات قائم کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، جبکہ دوسری جانب یہ مؤقف بھی موجود ہے کہ اگر کسی ملک پر پابندیاں عائد ہیں تو اس کے ساتھ کاروباری معاملات کے ممکنہ نتائج سے متعلق دیگر ممالک کو بھی محتاط رہنا چاہیے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق امریکا کے پاس مالیاتی نظام اور عالمی بینکاری کے حوالے سے خاصا اثر و رسوخ موجود ہے، اس لیے ثانوی پابندیوں کی دھمکی کو محض سیاسی بیان نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ چین، روس، بھارت اور دیگر بڑی معیشتیں اپنے علاقائی اور اقتصادی مفادات کے تحت ایران کے ساتھ روابط جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ اس صورتحال میں پابندیوں کی پالیسی عالمی تجارت کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔

ایران کے معاملے پر امریکا کی پالیسی ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کرتی ہے کہ عالمی نظام میں قومی خودمختاری اور بڑی طاقتوں کے اقتصادی دباؤ کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ اگر مختلف ممالک ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہیں تو واشنگٹن کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوگا کہ وہ ہر ملک کے خلاف پابندیوں کی دھمکی کو عملی اقدام میں کیسے تبدیل کرے۔

ایران پر امریکی دباؤ اب صرف ایران اور امریکا کے درمیان معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی، سفارت کاری اور علاقائی سیاست تک پھیل رہے ہیں۔ اگر امریکا ایران کے ساتھ تجارت یا تعاون کرنے والے ممالک کو بھی پابندیوں کی زد میں لانے کی پالیسی اختیار کرتا ہے تو اس سے عالمی طاقتوں کے درمیان معاشی اور سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اصل امتحان اب یہ ہوگا کہ ایران کے ساتھ روابط رکھنے والے ممالک اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے کس طرح نمٹتے ہیں۔

نوٹ: یہ رپورٹ دستیاب معلومات اور متعلقہ ذرائع کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ بعض دعوے متعلقہ فریقین کے مؤقف کے طور پر بیان کیے گئے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہو سکتی ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین