جماعت اسلامی کی ہڑتال پر ملک بھر میں کاروبار بند، کراچی میں کشیدگی

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات آج منصورہ میں ہوں گے

کراچی:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے باعث ملک کے مختلف شہروں میں کاروباری مراکز بند رہے، جبکہ کراچی کے بعض علاقوں میں نامعلوم افراد کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔

کراچی میں کورنگی کراسنگ کے قریب نامعلوم افراد نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹائر نذر آتش کیے، جبکہ دو موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ شہر کے موسمیات، صفورا چورنگی اور گردونواح میں بھی دکانیں اور پیٹرول پمپس بند کروا دیے گئے۔ صبح سویرے کاروبار شروع کرنے والے بعض دکانداروں کو بھی اپنی دکانیں بند کرنا پڑیں۔

دوسری جانب کراچی بار ایسوسی ایشن نے بھی جماعت اسلامی اور تاجروں کی جانب سے اعلان کردہ ہڑتال کی حمایت کردی ہے۔ کراچی بار کے مطابق مہنگائی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے کراچی پریس کلب تک ایک پُرامن ریلی بھی نکالی جائے گی۔ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہڑتال اور پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث وکلا اور سائلین کو سٹی کورٹ پہنچنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، اس لیے عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وکلا یا سائلین کی عدم حاضری پر سخت احکامات جاری نہ کیے جائیں۔

اسلام آباد میں بھی کاروباری سرگرمیاں متاثر

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے متعدد کاروباری اور تجارتی مراکز میں بھی ہڑتال کا اثر نمایاں رہا۔ سپر مارکیٹ، آبپارہ، جی ایٹ، جی نائن سمیت مختلف علاقوں میں زیادہ تر دکانیں بند رہیں جبکہ تاجروں نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کی حمایت کی۔

ہڑتال کے باعث شہریوں کو روزمرہ خریداری اور کاروباری معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر جاری بھی رہیں۔

لاہور سمیت پنجاب میں مارکیٹیں بند

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی جماعت اسلامی کی ہڑتال کے باعث متعدد اہم کاروباری مراکز بند رہے۔ کوئینز روڈ، عابد مارکیٹ، ہال روڈ، مال روڈ، نسبت روڈ مارکیٹ، فیروزپور روڈ اور برنتھ روڈ سمیت مختلف علاقوں میں دکانوں کے شٹر نیچے رہے۔

ہڑتال کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے جبکہ شہریوں کی جانب سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ سامنے آیا۔ تاجروں اور عوام کا مؤقف ہے کہ مہنگائی، ٹیکسوں اور کاروباری اخراجات میں مسلسل اضافے نے عام آدمی اور کاروباری طبقے دونوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بھی ہڑتال

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی پیٹرولیم لیوی، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے خلاف ہڑتال کی گئی۔ پشاور کے اشرف روڈ پر جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا گیا جس میں مقامی تاجر بھی شریک ہوئے۔

مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی کو مسترد کردیا۔ ضلع دیر میں بھی چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند رہے جبکہ ہڑتال کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں اور شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں اور وکلا برادری کی جانب سے بھی ہڑتال کی حمایت اور بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ کراچی کے تاجروں کی جانب سے بھی بڑی مارکیٹوں کی بندش کی حمایت پہلے ہی سامنے آچکی تھی۔

حافظ نعیم الرحمٰن کا حکومت کو سخت پیغام

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے ہڑتال سے قبل اپنے خطاب میں واضح کیا تھا کہ اگر حکومت نے عوام کے مطالبات پر سنجیدگی سے پیش رفت نہ کی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر بھی غور کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمٰن کے مطابق کراچی کی مارکیٹوں کی تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے، لاہور کے تاجروں نے بھی تعاون کا اعلان کیا ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں احتجاجی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی حمایت میں اضافہ ہورہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی اور بجلی کے فکسڈ چارجز سمیت متعدد معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کی جدوجہد کسی ذاتی یا جماعتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے ہے۔

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات

ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے ساتھ ساتھ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات بھی اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ پیٹرولیم لیوی اور دیگر عوامی مسائل کے معاملے پر دونوں فریقوں کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان آج منصورہ میں مذاکرات ہونے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کریں گے جبکہ ڈپٹی سیکریٹری فراست شاہ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری اور نوید علی بیگ بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

حکومت کی جانب سے مذاکراتی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر علی پرویز ملک اور بلال کیانی شامل ہوں گے۔ حکومتی وفد کے ساتھ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود ہوں گے جو حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور ممکنہ تجاویز پر مذاکراتی ٹیم کو بریفنگ دیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے عوام کے لیے کوئی قابلِ ذکر ریلیف پیکج پیش کیا جاتا ہے تو امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن بھی حکومتی وفد سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ مذاکرات ظہر کے بعد منصورہ میں ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

موجودہ صورتحال میں اصل اہمیت صرف ہڑتال کی کامیابی یا ناکامی کی نہیں بلکہ اس بات کی ہے کہ حکومت اور جماعت اسلامی مذاکرات کے ذریعے کسی قابلِ قبول حل تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔ ملک بھر میں مہنگائی اور ٹیکسوں کا دباؤ پہلے ہی عوام اور کاروباری طبقے کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے، اس لیے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت کی جانب سے کسی ریلیف کا اعلان سیاسی اور معاشی دونوں حوالوں سے اہم ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف کراچی میں جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات ہڑتال کے پُرامن سیاسی احتجاج کے مؤثر ہونے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ احتجاج عوام کا جمہوری حق ہے، تاہم کسی بھی صورت میں تشدد، توڑ پھوڑ اور شہریوں یا املاک کو نقصان پہنچانے کا عمل قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔

عوامی رائے

عوام کی ایک بڑی تعداد مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ براہِ راست سفری اخراجات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ، بجلی اور دیگر روزمرہ اخراجات پر بھی اثر ڈالتا ہے۔

تاہم شہریوں کی یہ خواہش بھی سامنے آتی ہے کہ احتجاج اور ہڑتال کے دوران عام شہریوں کے معمولات زندگی اور کاروباری املاک کو نقصان نہ پہنچے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔

ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی حکومت کے لیے ایک اہم ریونیو ذریعہ ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر ختم کرنے یا نمایاں طور پر کم کرنے کا فیصلہ حکومتی آمدنی اور بجٹ پر اثر ڈال سکتا ہے۔ دوسری جانب عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ اس لیے حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ایسا ریلیف دے جو عوام کو فوری سہارا فراہم کرنے کے ساتھ ملکی مالیاتی صورتحال کو بھی شدید متاثر نہ کرے۔

عوامی مسائل کا حل احتجاج سے زیادہ مذاکرات اور عملی اقدامات میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرولیم لیوی، بجلی کے فکسڈ چارجز، ٹیکسوں اور مہنگائی کے حوالے سے عوام اور کاروباری طبقے کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے۔ دوسری جانب سیاسی جماعتوں اور احتجاج کرنے والے عناصر کو بھی چاہیے کہ احتجاج کو مکمل طور پر پُرامن رکھا جائے اور کسی شہری، دکاندار یا سرکاری و نجی املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔

ملک گیر ہڑتال نے یہ واضح کردیا ہے کہ مہنگائی اور اضافی ٹیکسوں کا مسئلہ اب صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ کاروباری طبقہ اور عام شہری بھی اس بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔ حکومت کے لیے آج کے مذاکرات ایک اہم موقع ہیں۔ اگر مذاکرات میں عوام کو حقیقی اور قابلِ عمل ریلیف دینے کا راستہ نکال لیا جاتا ہے تو کشیدگی کم ہوسکتی ہے، لیکن اگر معاملات محض یقین دہانیوں تک محدود رہے تو احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔

اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ عوامی دباؤ، ملکی معاشی ضروریات اور سیاسی صورتحال کے درمیان ایسا متوازن فیصلہ کرے جس سے عوام کو بھی ریلیف ملے اور ملک کی مالیاتی صورتحال بھی مزید خراب نہ ہو۔

نوٹ: اس رپورٹ میں احتجاج، سیاسی مؤقف اور مذاکرات سے متعلق بعض معلومات متعلقہ فریقین اور دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر بیان کی گئی ہیں۔ جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ملوث افراد کی شناخت اور ذمہ داری سے متعلق حتمی تصدیق متعلقہ اداروں کی تحقیقات سے مشروط ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین