غیر فعال سم پر واٹس ایپ چلانے والوں کے لیے بڑی خبر، پی ٹی اے کا اکاؤنٹس بند کرنے کا اعلان

موبائل نمبر تبدیل کرنے والے صارفین فوری طور پر واٹس ایپ کا ’’چینج نمبر‘‘ آپشن استعمال کریں، پی ٹی اے کی ہدایت

اسلام آباد:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر فعال، منسوخ یا طویل عرصے سے استعمال نہ ہونے والی سموں سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق ایسے موبائل نمبروں سے منسلک بعض واٹس ایپ اکاؤنٹس فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث صارفین کو اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس فعال اور زیرِ استعمال موبائل نمبروں کے ساتھ منسلک رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ غیر فعال یا منسوخ سم سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹ صارف کے لیے سکیورٹی کا مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ موبائل نمبر ایک مرتبہ غیر فعال ہونے کے بعد مستقبل میں کسی دوسرے صارف کو جاری کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں پرانے نمبر کے ساتھ منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹ کے غلط استعمال کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتھارٹی نے صارفین کو بروقت اپنے نمبرز کی حیثیت جانچنے اور ضرورت پڑنے پر واٹس ایپ اکاؤنٹ کا نمبر تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ غیر فعال، منسوخ یا زیرِ استعمال نہ رہنے والی سموں سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کسی بھی وقت شروع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے ایسے صارفین جو پرانا موبائل نمبر تبدیل کرچکے ہیں لیکن اب بھی اسی نمبر پر واٹس ایپ استعمال کر رہے ہیں، انہیں مزید تاخیر کے بغیر اپنے اکاؤنٹ کو موجودہ اور فعال نمبر کے ساتھ منسلک کرنے کی ضرورت ہے۔

پی ٹی اے نے صارفین کو خاص طور پر واٹس ایپ میں موجود ’’Change Number‘‘ فیچر استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس فیچر کے ذریعے صارف اپنا موجودہ واٹس ایپ اکاؤنٹ نئے موبائل نمبر پر منتقل کر سکتا ہے اور اکاؤنٹ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکتا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق موبائل نمبر بروقت تبدیل کرنے سے صارفین اپنے اکاؤنٹس کو ممکنہ غلط استعمال اور سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنے میں مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

پی ٹی اے کی جانب سے یہ معاملہ پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا۔ رواں سال جون میں بھی صارفین کو خبردار کیا گیا تھا کہ بلاک یا غیر فعال سم سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹ مستقبل میں ناقابل رسائی ہو سکتا ہے اور صارفین کو فعال اور رجسٹرڈ سم استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اگست میں بھی اتھارٹی نے کہا تھا کہ غیر فعال، منسوخ یا زیرِ استعمال نہ رہنے والی سموں سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کو کسی بھی وقت بلاک کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد صارفین کے موبائل نمبروں کے غلط استعمال کو روکنا، فراڈ کے امکانات کم کرنا اور ڈیجیٹل سکیورٹی کو بہتر بنانا ہے۔ خاص طور پر ایسے نمبرز جو طویل عرصے سے استعمال نہیں ہو رہے، ان کے دوبارہ کسی اور شخص کو جاری ہونے کے بعد پرانے واٹس ایپ اکاؤنٹس کے حوالے سے سکیورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس صورتحال میں ان افراد کے لیے بھی یہ معاملہ اہم ہے جو اپنا موبائل نمبر تبدیل کرچکے ہیں لیکن واٹس ایپ پر اب بھی پرانا نمبر استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے صارفین کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنی سم کی موجودہ حیثیت کی تصدیق کریں اور اگر نمبر غیر فعال یا منسوخ ہوچکا ہے تو واٹس ایپ کے ’’Change Number‘‘ آپشن کے ذریعے اکاؤنٹ کو فعال نمبر پر منتقل کریں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی یہ ہدایت خاص اہمیت رکھتی ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جنہوں نے پاکستان کی سم پر واٹس ایپ اکاؤنٹ بنایا تھا لیکن بعد میں بیرون ملک منتقل ہونے کے باوجود اسی پاکستانی نمبر کو واٹس ایپ کے لیے استعمال کرتے رہے۔ اگر متعلقہ پاکستانی سم اب فعال نہیں رہی تو ایسے صارفین بھی متاثر ہو سکتے ہیں اور انہیں اپنے موجودہ فعال نمبر پر اکاؤنٹ منتقل کرنے کے لیے بروقت اقدام کرنا چاہیے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ دستیاب حالیہ رپورٹس کے مطابق پی ٹی اے کا اعلان ہر فعال واٹس ایپ اکاؤنٹ کو بند کرنے سے متعلق نہیں بلکہ خاص طور پر غیر فعال، منسوخ یا زیرِ استعمال نہ رہنے والی سموں سے منسلک اکاؤنٹس سے متعلق ہے۔ فعال نمبر استعمال کرنے والے صارفین کو اپنی سم کی حیثیت برقرار رکھنے اور اسے درست طریقے سے رجسٹرڈ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پی ٹی اے کا یہ اقدام بنیادی طور پر موبائل نمبروں اور ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے درمیان بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کو سامنے رکھتا ہے۔ آج کے دور میں موبائل نمبر صرف کال یا ایس ایم ایس کا ذریعہ نہیں بلکہ واٹس ایپ، بینکنگ، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل سروسز تک رسائی کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ اس لیے صارفین کو پرانے یا غیر فعال نمبروں کے ساتھ اپنے اہم اکاؤنٹس منسلک رکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

عوامی رائے

عوامی سطح پر اس فیصلے کو فراڈ اور جعلی اکاؤنٹس کی روک تھام کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بہت سے صارفین کے لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر کسی شخص نے پرانا نمبر صرف واٹس ایپ کے لیے محفوظ رکھا ہوا ہو تو اسے بروقت کیسے منتقل کیا جائے۔ اس لیے صارفین میں واضح اور مسلسل آگاہی اس پالیسی کے کامیاب نفاذ کے لیے ضروری ہوگی۔

ماہرین کی رائے

ڈیجیٹل سکیورٹی ماہرین کے مطابق کسی بھی آن لائن اکاؤنٹ کو ایسے موبائل نمبر سے منسلک رکھنا جس پر صارف کا مستقل کنٹرول نہ ہو، سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے موبائل نمبرز کی حیثیت باقاعدگی سے چیک کریں، غیر ضروری پرانے نمبرز بند کروائیں اور اہم اکاؤنٹس کو موجودہ فعال نمبرز کے ساتھ منسلک رکھیں۔

موبائل نمبر اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ شہری کی ڈیجیٹل شناخت کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ پی ٹی اے کا یہ اقدام اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صارفین کو اپنے پرانے نمبرز اور ان سے منسلک ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے بارے میں غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ بروقت نمبر تبدیل کرنا مستقبل میں اکاؤنٹ کے نقصان یا غلط استعمال سے بچنے کا بہتر راستہ ہے۔

صارفین کو اس معاملے میں گھبرانے کے بجائے اپنے موبائل نمبر کی حیثیت چیک کرنی چاہیے۔ اگر واٹس ایپ کسی ایسے نمبر سے منسلک ہے جو اب استعمال میں نہیں تو بہتر ہے کہ فوراً Change Number کا آپشن استعمال کرکے اسے موجودہ فعال نمبر پر منتقل کیا جائے۔ چند منٹ کی یہ احتیاط مستقبل میں اکاؤنٹ کے کنٹرول اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین