اسٹینفورڈ:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) انسانی دماغ کی ابتدائی نشوونما سے متعلق اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی نئی تحقیق نے دماغ کی تشکیل کے روایتی تصور پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تحقیق کے مطابق دماغ ایک ہی بنیادی خلیاتی ماخذ سے مکمل طور پر تشکیل پانے والا عضو نہیں بلکہ اس کی ابتدائی ساخت دو الگ اور مخصوص خلیاتی پیش رو نظاموں سے وجود میں آتی ہے، جو بعد میں ایک ہی مربوط دماغ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
یہ تحقیق بنیادی طور پر اس سوال کا جواب تلاش کرنے کیلئے کی گئی کہ دماغ کے مختلف حصے ابتدائی جنینی نشوونما کے دوران کس طرح بنتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے یہ تصور موجود تھا کہ ایک مشترکہ بنیادی خلیاتی ماخذ یا پروجینیٹر سیل دماغ کے تمام بڑے حصوں کو تشکیل دیتا ہے، تاہم نئی تحقیق اس ماڈل کو چیلنج کرتی ہے۔
اسٹینفورڈ میڈیسن کی ٹیم نے جنین کی نشوونما کے انتہائی ابتدائی مرحلے، جسے گسٹریولیشن (Gastrulation) کہا جاتا ہے، کا جائزہ لیا۔ محققین نے چوہوں کے جنین میں دو مختلف دماغی خلیاتی پیش رو گروہوں کی شناخت کی جو ایک ہی وقت میں سامنے آتے ہیں لیکن ان کی نشوونما کی سمت مختلف ہوتی ہے۔ ایک گروہ دماغ کے اگلے اور درمیانی حصے یعنی فوربرین اور مڈبرین کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ ہنڈبرین کی تشکیل کیلئے مخصوص ہوتا ہے۔
تحقیق میں پہلے خلیاتی گروہ کو Anterior Neural Ectoderm جبکہ دوسرے کو Posterior Neural Ectoderm قرار دیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق دونوں خلیاتی گروہوں کی جینیاتی اور کرومیٹن ساخت بھی مختلف تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے ہی میں ان کی آئندہ شناخت اور کام کا راستہ بڑی حد تک متعین ہوجاتا ہے۔
دماغ کے پچھلے حصے یا ہنڈبرین میں ایسے اہم عصبی مراکز شامل ہیں جو جسم کے بنیادی اور خودکار افعال میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سانس، دل کی دھڑکن، نیند اور بھوک جیسے اہم جسمانی افعال کی تنظیم شامل ہے۔ ہنڈبرین کے بعض نیورونز چہرے، زبان اور حلق کے پٹھوں کی حرکت میں بھی کردار ادا کرتے ہیں، جو بولنے اور نگلنے جیسے افعال کیلئے اہم ہیں۔ دوسری جانب فوربرین اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں، شعور، زبان، تجریدی سوچ اور دیگر پیچیدہ ذہنی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔
اس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سائنس دانوں نے انسانی اسٹیم سیلز کو استعمال کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ایسے ہنڈبرین موٹر نیورونز لیبارٹری میں تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی جن میں حقیقی ہنڈبرین خلیات کی خصوصیات پائی گئیں۔ ان خلیات میں برقی سرگرمی دیکھی گئی اور انہوں نے ایسے پروٹین بنائے جو ہنڈبرین کے ان حصوں کی شناخت کرتے ہیں جو چہرے اور نگلنے سے متعلق پٹھوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔
یہ کامیابی اس لیے اہم سمجھی جارہی ہے کیونکہ ماضی میں لیبارٹری میں ہنڈبرین کے مخصوص نیورونز تیار کرنا سائنس دانوں کیلئے خاصا مشکل رہا ہے۔ نئی تحقیق اس مشکل کی ممکنہ وجہ بھی واضح کرتی ہے کہ اگر ابتدائی مرحلے میں غلط قسم کے پروجینیٹر خلیات سے ہنڈبرین نیورونز بنانے کی کوشش کی جائے تو وہ مطلوبہ خلیاتی شناخت اختیار کرنے کیلئے بنیادی طور پر موزوں نہیں ہوتے۔
تحقیق نے دماغ کی ارتقائی تاریخ پر بھی نئی روشنی ڈالی ہے۔ سائنس دانوں نے مختلف جانوروں میں اس دوہری خلیاتی تنظیم کا جائزہ لیا اور اسے تقریباً 550 ملین سال کی ارتقائی تاریخ میں مختلف انواع تک ٹریس کیا۔ محققین نے مرغیوں، زیبرا فش اور ایکورن ورمز سمیت مختلف جانداروں میں بھی اسی نوعیت کے دو خلیاتی پیش رو نظاموں کے شواہد تلاش کیے۔
ایکورن ورم خاص طور پر دلچسپ مثال ہے کیونکہ یہ ایک سمندری جاندار ہے جس کا انسانوں سے ارتقائی تعلق بہت قدیم مشترک جد سے جڑا ہوا ہے۔ محققین کے مطابق انسانوں اور ایکورن ورمز کے مشترک ارتقائی جد کو 500 ملین سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اس کے باوجود دماغی نشوونما کے اس بنیادی خلیاتی نمونے میں مماثلت کے شواہد ملنا اس نظام کی قدامت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
تاہم تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے جسم میں دو الگ دماغ موجود ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق دماغ ایک ہی مربوط عضو ہے، لیکن اس کے مختلف حصے ابتدائی نشوونما میں مختلف خلیاتی راستوں سے تشکیل پاتے ہیں۔ اسٹینفورڈ کے محققین کا کہنا ہے کہ ارتقائی عمل کے دوران یہ دو قدیم عصبی نظام ایک مربوط دماغی ساخت کا حصہ بن گئے۔
اس دریافت کے طبی اثرات بھی اہم ہوسکتے ہیں۔ ہنڈبرین کے نیورونز کئی سنگین اعصابی بیماریوں میں متاثر ہوتے ہیں، جن میں اسپائنل مسکلر ایٹروفی (SMA) اور امیوٹروفک لیٹرل اسکلروسیس (ALS) شامل ہیں۔ لیبارٹری میں ان مخصوص نیورونز کو بہتر طریقے سے تیار کرنے کی صلاحیت مستقبل میں ان بیماریوں کے بنیادی میکانزم سمجھنے، ادویات کی تحقیق اور ممکنہ علاج کے تجربات کیلئے نئے راستے فراہم کرسکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج 18 ستمبر 2026 کو Nature Neuroscience میں شائع ہوئے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ابتدائی جنینی مرحلے کو سمجھنا صرف دماغ کی بنیادی ساخت جاننے کیلئے اہم نہیں بلکہ مستقبل میں اسٹیم سیل تحقیق اور دماغی بیماریوں کے مطالعے کیلئے بھی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
اس تحقیق کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ دماغ کو ایک واحد خلیاتی راستے سے بننے والے عضو کے بجائے دو الگ ابتدائی خلیاتی نظاموں کے امتزاج کے طور پر سمجھنے کا نیا سائنسی ماڈل سامنے آیا ہے۔ اس سے دماغ کی نشوونما کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان خلیات کی لیبارٹری میں تیاری کے طریقوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے جو اب تک سائنس دانوں کیلئے مشکل رہے ہیں۔
عوامی رائے
عام لوگوں کیلئے یہ تحقیق اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ دماغ انسانی جسم کا انتہائی پیچیدہ عضو ہے اور اس کی تشکیل کے بارے میں ابھی بھی سائنس بہت کچھ دریافت کر رہی ہے۔ تاہم سرخی میں ’’دو دماغ‘‘ کا تصور پیدا کرنے کے بجائے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تحقیق دو الگ خلیاتی پیش رو نظاموں کی بات کرتی ہے، نہ کہ انسان کے جسم میں دو مکمل دماغوں کی۔
ماہرین کی رائے
سائنسی تحقیق کے مطابق دماغ کے اگلے اور پچھلے حصے کے خلیاتی پیش رو ابتدائی جنینی مرحلے ہی میں مختلف راستوں پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ اس دریافت سے خاص طور پر ہنڈبرین کے نیورونز کی لیبارٹری میں تیاری اور دماغی بیماریوں کے مطالعے میں نئی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم اس تحقیق کے طبی فوائد کو عملی علاج میں تبدیل ہونے میں مزید تحقیق اور تجربات درکار ہوں گے۔
روزنامہ تحریک کے نزدیک اسٹینفورڈ کی یہ تحقیق انسانی دماغ کی پیچیدہ ساخت اور اس کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں ایک اہم اضافہ ہے۔ خاص طور پر اسٹیم سیلز سے ہنڈبرین نیورونز کی تیاری مستقبل میں ایسے اعصابی امراض کی تحقیق کیلئے مفید ثابت ہوسکتی ہے جن میں دماغ کے پچھلے حصے کے مخصوص خلیات متاثر ہوتے ہیں۔
میرے نزدیک اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سائنس دانوں نے دماغ کی ابتدائی تشکیل کے بارے میں ایک پرانے تصور کو مزید پیچیدہ اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ دماغ ایک ہی مربوط عضو ہے، لیکن اس کی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں دو الگ خلیاتی راستوں کا کردار سامنے آنا اس بات کی مثال ہے کہ انسانی جسم کی نشوونما کتنی پیچیدہ ہے۔ اگر مستقبل میں اسی بنیاد پر مخصوص دماغی نیورونز کو بہتر انداز میں لیبارٹری میں تیار کیا جاسکا تو اس کے اثرات بنیادی تحقیق سے آگے بڑھ کر اعصابی بیماریوں کے مطالعے تک پہنچ سکتے ہیں۔





















