تہران کے آسمان پر پراسرار روشنیاں، ڈرون، طیارہ یا کوئی نامعلوم شے؟

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز نے نئی بحث چھیڑ دی

تہران:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) ایران کے دارالحکومت تہران میں رات کے وقت آسمان پر نظر آنے والی متعدد پراسرار روشنیاں سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ 20 ستمبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں تاریک آسمان کے درمیان کئی روشنیاں حرکت کرتی دکھائی دیتی ہیں، جس کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

بعض صارفین نے ان روشنیوں کو ڈرون قرار دیا، کچھ نے متعدد ڈرونز کا گروپ ہونے کا امکان ظاہر کیا، جبکہ بعض افراد کے مطابق یہ کوئی طیارہ یا روشنیوں سے مزین کوئی اور اڑنے والی شے بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم دستیاب ویڈیوز کی بنیاد پر ان میں سے کسی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ تازہ رپورٹنگ کے مطابق ویڈیوز میں موجود شے کی اصل جسامت، بلندی، فاصلے اور رفتار کا بھی قابلِ اعتماد اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

سوشل میڈیا پر بعض اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ ویڈیوز تہران کے علاقے آزادگان ایکسپریس وے کے قریب ریکارڈ کی گئیں۔ تاہم ان دعوؤں کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ بعض تجزیوں میں ویڈیو میں متعدد رنگین روشنیاں نظر آنے کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن صرف ویڈیو کی بنیاد پر یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ وہ روشنیاں کس شے سے خارج ہورہی تھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ویڈیوز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب تہران کے مشہور 1976 کے فضائی واقعے کو تقریباً 50 سال مکمل ہورہے ہیں۔ 19 ستمبر 1976 کو تہران کے شمالی علاقے شمیران کے شہریوں نے رات کے آسمان پر ایک غیر معمولی روشن شے دیکھنے کی اطلاع دی تھی۔ اس وقت ایرانی فضائیہ نے اس شے کا جائزہ لینے کیلئے ایف-4 لڑاکا طیارے روانہ کیے تھے۔ اس واقعے کا ذکر بعد میں امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈی کلاسیفائیڈ ریکارڈ میں بھی کیا گیا۔

ڈی کلاسیفائیڈ امریکی ریکارڈ کے مطابق 1976 میں ابتدائی طور پر تہران کے شہریوں کی جانب سے عجیب روشن شے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ایرانی فضائیہ کے ایک ایف-4 طیارے کو اس کی جانب بھیجا گیا اور رپورٹ کے مطابق جب طیارہ اس شے کے قریب پہنچا تو اس کے آلات اور مواصلاتی نظام میں خرابی پیدا ہوئی، جس کے بعد پائلٹ نے واپسی اختیار کی۔ واپس مڑنے کے بعد طیارے کے آلات اور مواصلاتی نظام دوبارہ کام کرنے لگے۔

بعد میں دوسرے ایف-4 طیارے کو بھی روانہ کیا گیا۔ ڈی کلاسیفائیڈ رپورٹ میں اس طیارے کے عملے کی جانب سے ریڈار پر شے کی موجودگی اور ایک مرحلے پر ہتھیاروں کے کنٹرول نظام میں خرابی کی اطلاع بھی درج ہے۔ یہ تمام تفصیلات اس وقت کے فوجی ریکارڈ کا حصہ ہیں، تاہم اس واقعے کی حتمی نوعیت کے بارے میں مختلف تشریحات آج بھی موجود ہیں۔

2026 میں سامنے آنے والی موجودہ ویڈیوز اور 1976 کے واقعے کے درمیان سب سے نمایاں مماثلت صرف مقام اور وقت کا قریب ہونا ہے۔ تقریباً نصف صدی بعد ایک بار پھر تہران کے آسمان پر غیر معمولی روشنیاں نظر آنے سے سوشل میڈیا صارفین نے دونوں واقعات کو آپس میں جوڑنا شروع کردیا ہے، لیکن موجودہ ویڈیوز کو 1976 کے واقعے سے جوڑنے کیلئے فی الحال کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں۔

دونوں واقعات کے شواہد میں بھی واضح فرق ہے۔ 1976 کے واقعے کے حوالے سے فوجی اہلکاروں کے مشاہدات، ریڈار رابطے اور امریکی حکومت کا بعد میں جاری کیا گیا ڈی کلاسیفائیڈ ریکارڈ موجود ہے، جبکہ 2026 کے واقعے میں فی الحال بنیادی ثبوت سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز ہیں۔ موجودہ واقعے کیلئے عوامی سطح پر ایسا کوئی ریڈار ڈیٹا، فضائی ریکارڈ یا سرکاری تکنیکی تجزیہ سامنے نہیں آیا جو اس شے کی شناخت کرسکے۔

اسی وجہ سے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تہران کے آسمان پر نظر آنے والی روشنیاں کسی ڈرون، فوجی طیارے یا کسی غیر معمولی فضائی مظہر کی تھیں۔ ممکن ہے مزید ویڈیوز، عینی شاہدین کے بیانات، فضائی ٹریفک کا ڈیٹا یا کسی سرکاری ادارے کی وضاحت سامنے آنے کے بعد معاملہ واضح ہوجائے۔

فی الحال ایرانی حکام کی جانب سے اس مخصوص ویڈیو یا نظر آنے والی شے کی کوئی ایسی عوامی شناخت سامنے نہیں آئی جس سے اس کی نوعیت حتمی طور پر معلوم ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری قیاس آرائیاں مختلف سمتوں میں جارہی ہیں۔

تہران کے آسمان پر موجودہ پراسرار روشنیاں یقیناً دلچسپ ہیں، لیکن صحافتی طور پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی شے کو بغیر ثبوت کسی خاص نام سے منسوب نہ کیا جائے۔ ڈرون، طیارہ یا کوئی اور فضائی شے ہونے کے امکانات زیرِ بحث ہیں، مگر حتمی شناخت کیلئے مزید قابلِ اعتماد شواہد درکار ہیں۔ 1976 کے واقعے کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ، لیکن صرف تاریخ اور مقام کی مماثلت موجودہ واقعے کو اس سے جوڑنے کیلئے کافی نہیں۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا صارفین میں ان ویڈیوز کے حوالے سے خاصی دلچسپی پائی جارہی ہے۔ کچھ لوگ اسے ڈرون سمجھ رہے ہیں جبکہ بعض افراد اسے کسی نامعلوم فضائی شے سے جوڑ رہے ہیں۔ تاہم وائرل ویڈیو اور حتمی شناخت کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔

ماہرین کی رائے

دستیاب شواہد کی بنیاد پر فی الحال کسی ایک وضاحت کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ماہرین کیلئے کسی فضائی شے کی شناخت میں اس کا زاویۂ مشاہدہ، فاصلے کا درست اندازہ، رفتار، بلندی، موسم، فلائٹ ڈیٹا اور ریڈار معلومات اہم ہوتی ہیں۔ موجودہ ویڈیوز میں ان میں سے بیشتر معلومات دستیاب نہیں۔

روزنامہ تحریک کے نزدیک تہران کے آسمان پر نظر آنے والی روشنیاں ایک دلچسپ فضائی معمہ ضرور ہیں، لیکن سوشل میڈیا کی قیاس آرائیوں کو حتمی حقیقت سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر ایرانی حکام یا کسی معتبر ادارے کی جانب سے تکنیکی معلومات سامنے آتی ہیں تو اس واقعے کی حقیقت زیادہ واضح ہوسکتی ہے۔

میرے خیال میں اس خبر کی اصل دلچسپی پراسرار روشنیوں سے زیادہ اس بات میں ہے کہ تقریباً 50 سال بعد تہران کے آسمان پر ایک بار پھر ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جنہوں نے 1976 کے مشہور واقعے کی یاد تازہ کردی۔ لیکن دونوں واقعات کو ایک ہی نوعیت کا قرار دینا ابھی درست نہیں۔ فی الحال بہتر یہی ہے کہ اسے نامعلوم فضائی شے کی ویڈیو کہا جائے اور حتمی شناخت کیلئے قابلِ اعتماد

متعلقہ خبریں

مقبول ترین