ایران، امریکہ اور اسرائیل کی ممکنہ جنگ، اگر مشرقِ وسطیٰ بھڑک اٹھا تو دنیا کس حال میں ہوگی؟

تیل سے روٹی تک، عالمی معیشت سے عام انسان کی زندگی تک ایک ہولناک ممکنہ منظرنامہ

خصوصی تحریر:غلام مرتضی

رات کے دو بجے ہیں۔ دنیا کے بیشتر شہروں میں لوگ اپنے بستروں پر سو رہے ہیں۔ کسی گھر میں ماں اپنے بچے کو تھپکیاں دے کر سلا رہی ہے،کسی مزدور نے صبح روزگار کی تلاش میں نکلنا ہے، کسی طالب علم نے امتحان کی تیاری کرنی ہے اور کوئی باپ مہینے کے آخری دنوں میں گھر کا خرچ پورا کرنے کے لیے پیسوں کا حساب لگا رہا ہے۔ اچانک موبائل فون کی اسکرین روشن ہوتی ہے۔ خبر آتی ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فوجی تصادم ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

چند لمحوں میں دنیا کے مالیاتی بازاروں، تیل کی منڈیوں اور سفارتی ایوانوں میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ ٹیلی ویژن پر میزائلوں کی تصاویر چلنے لگتی ہیں، ہوائی اڈوں پر پروازوں کی منسوخی شروع ہو جاتی ہے، سمندری راستوں پر جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے لگتی ہے اور کروڑوں انسان ایک ایسے سوال سے دوچار ہو جاتے ہیں جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہوتا: کیا یہ جنگ محدود رہے گی یا پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی؟

یہ محض افسانوی منظر نہیں۔ اکتوبر 2026 کی صورتِ حال میں اس خدشے کی بنیاد موجود ہے۔ رواں سال فروری میں شروع ہونے والا ایران، امریکہ اور اسرائیل کا فوجی تصادم پہلے ہی خطے کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے۔ جون میں جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں ہوئیں، لیکن بعد کے مہینوں میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔ 26 اکتوبر کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی اعلیٰ سطح کی شخصیات تہران میں مزید جنگ روکنے اور سفارتی راستہ تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جنگ کا دوبارہ شدید ہونا ایک حقیقی خطرہ ہے، اگرچہ اس کا وقوع پذیر ہونا یقینی نہیں۔

اس ممکنہ جنگ کا سب سے اہم محاذ صرف میدانِ جنگ نہیں بلکہ سمندر میں واقع ایک تنگ راستہ بھی ہے، جسے آبنائے ہرمز کہا جاتا ہے۔

یہ راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق 2025 میں یہاں سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات گزرتی تھیں، جو عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی بنتا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں، خصوصاً ایشیائی ممالک، کی توانائی کی فراہمی اس راستے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔

اب تصور کیجیے کہ جنگ دوبارہ شدت اختیار کر جاتی ہے، تجارتی جہازوں پر حملے بڑھ جاتے ہیں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت طویل عرصے تک محدود رہتی ہے۔

تیل بردار جہاز راستے میں رک سکتے ہیں۔ بیمہ کمپنیاں جنگی خطرات کے باعث اپنے نرخ بڑھا سکتی ہیں۔ جہازوں کے مالکان متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ ہر اضافی دن اور ہر اضافی سمندری میل کی قیمت بالآخر کسی نہ کسی صارف کو ادا کرنا پڑے گی۔

یہاں ایک بنیادی حقیقت سمجھنا ضروری ہے: تیل کی قیمت صرف اس بنیاد پر نہیں بڑھتی کہ کتنا تیل غائب ہو گیا ہے؛ یہ خوف، غیر یقینی صورتِ حال اور مستقبل میں مزید قلت کے خدشے سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

یعنی اگر آپ پاکستان میں بیٹھے ہیں، آپ کا ایران سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں اور آپ جنگ کے کسی فریق کی حمایت بھی نہیں کرتے، تب بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے سے آپ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔

 پٹرول مہنگا، ہر چیز کی قیمت میں آگ

جنگ کا دوسرا مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب میزائلوں کی آوازیں ہزاروں کلومیٹر دور پہنچنے لگتی ہیں، لیکن ان کی معاشی گونج ہر گھر میں سنائی دیتی ہے۔

پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوں تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو سبزی، پھل، آٹا، دودھ، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی مہنگی ہو سکتی ہے۔ فیکٹریوں کے لیے خام مال لانا اور تیار مال بازار تک پہنچانا زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔

یوں ایک ایسی مہنگائی جنم لے سکتی ہے جس میں صرف ایک چیز نہیں بلکہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے پر دباؤ پڑتا ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی نے 2026 میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل کی فراہمی میں تاریخی نوعیت کی رکاوٹوں اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے اثرات ڈیزل، ہوائی جہازوں کے ایندھن اور مائع پٹرولیم گیس تک پھیل سکتے ہیں۔

اس صورتِ حال میں سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوگا؟

اس شخص کو جس کی آمدن پہلے ہی محدود ہے۔ امیر آدمی مہنگا پٹرول خرید کر اپنی گاڑی چلا سکتا ہے، لیکن روزانہ مزدوری کرنے والا شخص سفر کے اخراجات بڑھنے پر اپنے کھانے میں کمی کر سکتا ہے۔ ایک متوسط طبقے کا خاندان بچوں کی فیس، بجلی کے بل اور راشن کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

جنگ کی سب سے تلخ حقیقت یہی ہے کہ فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے، لیکن اس کی قیمت اکثر وہ انسان ادا کرتا ہے جس کا فیصلہ سازی میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔

 پاکستان کا امتحان

پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ملک کو توانائی کی درآمدات، زرمبادلہ کی ضروریات، مہنگائی اور بیرونی مالیاتی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

اگر عالمی منڈی میں تیل مسلسل مہنگا ہو، سمندری نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جائیں اور درآمدات کے لیے زیادہ ڈالر درکار ہوں تو پاکستان کے معاشی مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

حکومت کے سامنے مشکل انتخاب ہوگا: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے، عوام کو سبسڈی دی جائے یا قومی خزانے پر اضافی بوجھ برداشت کیا جائے؟

قیمتیں بڑھائی جائیں تو عوام متاثر ہوں گے؛ سبسڈی دی جائے تو سرکاری وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اگر عالمی قیمتوں کا دباؤ طویل عرصے تک برقرار رہے تو اس کے اثرات بجٹ، کاروبار اور عام شہری کی قوتِ خرید تک پہنچ سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے ایک اور حساس پہلو خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی سلامتی ہے۔ اگر جنگ کا دائرہ خلیجی خطے میں مزید پھیلتا ہے تو فضائی سفر، روزگار، کاروباری سرگرمیوں اور ترسیلاتِ زر پر اثرات پڑنے کا خطرہ موجود ہوگا۔

تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ جنگ ہوتے ہی پاکستان کی معیشت لازماً تباہ ہو جائے گی۔ نقصان کی شدت کا انحصار جنگ کی مدت، تیل کی قیمتوں، تجارتی راستوں کی بحالی، حکومتی پالیسی اور عالمی مالیاتی حالات پر ہوگا۔

اصل خطرہ جنگ کے ایک دن میں نہیں، بلکہ اس کے طویل ہونے اور پہلے سے موجود معاشی کمزوریوں کو بڑھا دینے میں ہے۔

 روٹی، کھاد اور بھوک کا بحران

اکثر لوگ جنگ کے معاشی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صرف پٹرول کی قیمت یاد رکھتے ہیں، لیکن حقیقت میں خوراک کا بحران کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

جدید زراعت کا انحصار توانائی، کھاد، آب پاشی، ٹرانسپورٹ اور عالمی تجارت پر ہے۔ کھاد کی تیاری میں قدرتی گیس اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ کھیتوں سے منڈیوں تک فصل پہنچانے کے لیے ایندھن درکار ہوتا ہے۔

اگر جنگ کے باعث گیس اور کھاد کی فراہمی متاثر ہو، سمندری راستے غیر محفوظ ہو جائیں اور درآمدی اخراجات بڑھ جائیں تو کسانوں کی پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے۔

اس کے نتیجے میں کسان کھاد کا استعمال کم کر سکتے ہیں، فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور اگلے زرعی موسم میں خوراک کی فراہمی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

عالمی بینک نے 2026 میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے اثرات میں خوراک کی بڑھتی قیمتوں، رسد کی رکاوٹوں اور علاقائی معاشی ترقی میں کمی کی نشاندہی کی ہے۔

تصور کیجیے کہ ایک غریب گھرانے کے سامنے آٹے کا تھیلا موجود ہے، لیکن اس کی قیمت گزشتہ ماہ سے زیادہ ہے۔ بچوں کے دودھ، مریض کی دوا اور گھر کے راشن میں سے کسی ایک پر سمجھوتا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں جنگ صرف خارجہ پالیسی یا فوجی حکمتِ عملی کا موضوع نہیں رہتی، بلکہ انسانی وقار، غذائی تحفظ اور بنیادی ضروریات کا مسئلہ بن جاتی ہے۔

 جنگ کا پھیلاؤ اور عالمی طاقتوں کی آزمائش

اگر ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف دو یا تین ممالک تک محدود رہنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

خلیجی ممالک کی بندرگاہیں، توانائی کی تنصیبات، فضائی حدود اور تجارتی راستے خطرے میں آ سکتے ہیں۔ یمن اور بحیرۂ احمر کے اطراف کشیدگی بڑھنے سے جہاز رانی کے دوسرے راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود تنازعات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

اس صورتِ حال میں امریکہ کے لیے اپنے فوجی اہداف، علاقائی اتحادیوں کے تحفظ اور جنگ کے اخراجات کے درمیان توازن قائم رکھنا مشکل ہوگا۔ ایران کے لیے بھی طویل فوجی تصادم، معاشی پابندیوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ اسرائیل کو بھی میزائل حملوں، دفاعی اخراجات، شہری تحفظ اور طویل غیر یقینی صورتِ حال کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

چین، بھارت، جاپان اور یورپی ممالک جیسے بڑے توانائی صارفین بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ چین اور بھارت کی بڑی مقدار میں تیل کی درآمدات خلیجی راستوں سے وابستہ ہیں، جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا بھی اس خطے کی توانائی فراہمی کے لیے اہم حد تک حساس ہیں۔

یہاں خطرہ صرف تیل کی قلت نہیں بلکہ عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم ہے۔ مختلف ممالک اپنے اتحادیوں کی مدد، دفاعی ضروریات اور اقتصادی مفادات کے درمیان مشکل فیصلے کر سکتے ہیں۔

لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ علاقائی جنگ کا لازماً عالمی جنگ میں تبدیل ہونا طے شدہ نہیں۔ سفارت کاری، محدود فوجی ردعمل اور باہمی مفادات اب بھی تصادم کو روکنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 فضائی سفر، تجارت اور روزگار پر دباؤ

جنگ کے طویل ہونے کی صورت میں فضائی کمپنیاں خطرناک فضائی حدود سے بچنے کے لیے پروازوں کے راستے تبدیل کر سکتی ہیں۔ طویل راستوں کا مطلب زیادہ ایندھن، زیادہ اخراجات اور ممکنہ تاخیر ہے۔

کاروباری افراد کے لیے سامان کی ترسیل مہنگی ہو سکتی ہے۔ سیاحت متاثر ہو سکتی ہے۔ سرمایہ کار ایسے منصوبوں کو مؤخر کر سکتے ہیں جن کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال موجود ہو۔

اگر کاروباروں کے اخراجات بڑھیں اور صارفین کی قوتِ خرید کم ہو تو بعض ادارے بھرتیاں روک سکتے ہیں یا اخراجات میں کمی کے لیے ملازمین کی تعداد گھٹا سکتے ہیں۔

اس طرح جنگ کا ایک غیر مرئی محاذ بھی کھلتا ہے: بے روزگاری اور معاشی بے یقینی۔

کسی شہر پر میزائل گرے یا نہ گرے، اس شہر میں رہنے والے نوجوان کے لیے ملازمت کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔ کسی بندرگاہ پر بمباری نہ بھی ہو، اس کے ذریعے آنے والا سامان مہنگا ہو سکتا ہے۔ کسی ملک کی سرحد جنگ سے دور ہو، تب بھی اس کی معیشت عالمی حالات سے محفوظ نہیں رہتی۔

 کیا دنیا کساد بازاری کی طرف جا سکتی ہے؟

اگر جنگ محدود مدت میں ختم ہو جائے اور تیل و گیس کی فراہمی بحال ہو جائے تو عالمی معیشت وقت کے ساتھ سنبھل سکتی ہے۔ لیکن اگر توانائی کی رکاوٹیں کئی ماہ جاری رہیں، اہم تنصیبات کو نقصان پہنچے اور تجارت مسلسل متاثر ہو تو صورتِ حال زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔

تیل مہنگا ہونے سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے، مہنگائی قابو میں رکھنے کے لیے مرکزی بینک سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھ سکتے ہیں، قرض لینا مہنگا ہو سکتا ہے اور کاروباری سرمایہ کاری کم ہو سکتی ہے۔

یوں دنیا کو ایک مشکل صورتِ حال کا سامنا ہو سکتا ہے: قیمتیں بڑھ رہی ہوں، مگر کاروباری سرگرمیاں اور روزگار کمزور پڑ رہے ہوں۔

اسے معاشی جمود کے ساتھ مہنگائی کا دباؤ کہا جا سکتا ہے۔ تاہم عالمی کساد بازاری کو یقینی نتیجہ قرار دینا درست نہیں؛ اس کا انحصار جنگ کی شدت، مدت اور حکومتوں کے ردعمل پر ہوگا۔

 تباہی کا راستہ یا سفارت کاری کا دروازہ؟

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس تمام ممکنہ تباہی کو روکا جا سکتا ہے؟

جواب ہاں ہے، لیکن اس کے لیے محض سخت بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ فریقین کو ایسے قابلِ تصدیق معاہدے کی ضرورت ہوگی جس میں حملوں کی روک تھام، جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات، سمندری راستوں کی حفاظت، پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر قابلِ عمل پیش رفت ہو۔

پاکستان، قطر، ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک سفارتی رابطوں میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اکتوبر 2026 میں تہران میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ جنگ روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ شہری آبادی، اسپتالوں، پانی اور بجلی کی تنصیبات، بندرگاہوں اور خوراک کی فراہمی کو جنگی تباہی سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

اور سب سے بڑھ کر، دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی جنگ میں فتح کا اعلان کرنا آسان ہو سکتا ہے، لیکن تباہ شدہ معیشت، بکھرے ہوئے خاندانوں اور خوف میں زندگی گزارنے والے بچوں کو دوبارہ سنبھالنا آسان نہیں ہوتا۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کس ملک کے پاس کتنے میزائل ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر جنگ مزید پھیل گئی تو کتنے گھرانے اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکیں گے، کتنے نوجوان روزگار کے مواقع کھو دیں گے اور کتنے بچے ایک ایسی دنیا میں بڑے ہوں گے جہاں روٹی، توانائی اور امن پہلے سے زیادہ مہنگے ہو چکے ہوں گے۔

تاریخ ہمیں بار بار بتاتی ہے کہ جنگیں اکثر طاقت کے مظاہرے کے نام پر شروع ہوتی ہیں، مگر ان کا بوجھ عام انسان کے کندھوں پر آ گرتا ہے۔ اس بار بھی اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو نقصان صرف ایران، امریکہ یا اسرائیل تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کی قیمت پاکستان کے بازاروں، ایشیا کی صنعتوں، یورپ کے توانائی صارفین اور دنیا بھر کے کم آمدن گھرانوں کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

اس لیے آج سب سے بڑی دانش مندی مزید جنگ کی تیاری سے پہلے جنگ کو روکنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ کیونکہ میزائل کسی ملک کی فوجی طاقت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، لیکن امن ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو زندہ رہنے، محنت کرنے اور مستقبل کے خواب دیکھنے کا حق دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین