اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات وزیراعظم شہباز شریف کی کفایت شعاری مہم کے تحت کیے گئے ہیں۔
گاڑیوں اور تنخواہوں سے متعلق بڑے فیصلے
نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری پالیسی کے تحت 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح ارکان قومی اسمبلی کی دو ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران یا وہ افسران جن کی ماہانہ تنخواہ تین لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔
بیرون ملک دوروں پر پابندی
کفایت شعاری اقدامات کے تحت پارلیمانی وفود کے بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تمام غیر ضروری خریداری فوری طور پر بند کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق صرف ناگزیر روزمرہ ضروریات کے لیے محدود خریداری کی اجازت دی جائے گی۔
کام کے طریقہ کار میں تبدیلی
حکومت نے اخراجات کم کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس غروب آفتاب سے پہلے شیڈول کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سیکرٹریٹ کا تقریباً 80 فیصد عملہ گھر سے ورچوئل ڈیوٹی انجام دے گا۔
اسی طرح قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس آن لائن یا ورچوئل طریقے سے منعقد کیے جائیں گے اور قومی اسمبلی میں ہفتے کے صرف چار ورکنگ ڈیز رکھے جائیں گے۔
بجلی کی بچت اور پیپر لیس نظام
نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کے استعمال میں 70 فیصد کمی لانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
اسی طرح قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں روایتی اخراجات کم کرنے کے لیے پیپر لیس ورکنگ اپنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کیفے ٹیریاز کے یوٹیلیٹی بلز میں بھی 70 فیصد تک بچت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں نافذ کیے گئے یہ اقدامات موجودہ معاشی دباؤ کے تناظر میں اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
ان کے بقول حکومت کی کوشش ہے کہ سرکاری اداروں کے اخراجات کم کیے جائیں تاکہ قومی خزانے پر پڑنے والا بوجھ کم کیا جا سکے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اگر کفایت شعاری کے یہ اقدامات مستقل بنیادوں پر نافذ رہتے ہیں تو اس سے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب تمام سرکاری ادارے اسی طرز پر اخراجات میں کمی کے اقدامات اپنائیں گے۔





















