بلوچستان حکومت رجسٹرڈ مدارس کو بند کرنے کا سلسلہ بند کرے:متحدہ مدارس کونسل

ڈی جی آر ای اور سوسائٹی ایکٹ کے ہوتے ہوئے کوئی نیا صوبائی قانون یا اتھارتی قبول نہیں؟

لاہور(سپیشل رپورٹ)متحدہ مدارس کونسل پاکستان کے ترجمان و ناظم اعلیٰ نظام المدارس ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری نے کونسل کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت مدارس کو بند اور انہیں جرمانے کررہی ہے، یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے،اس سے ریاست پاکستان کی پالیسیوں کی حمایت اور امن کے فروغ کیلئے قومی خدمت انجام دینے والے دینی بورڈز میں تشویش اور بے چینی پھیل رہی ہے۔

ڈی جی آر ای اور سوسائٹی ایکٹ کے ہوتے ہوئے صوبائی حکومتیں الگ سے رجسٹریشن کا کوئی قانون نہیں بنا سکتیں۔ رجسٹریشن کے دوہرے قانون سے وفاق کی عملداری کو کمزور اور مدارس دینیہ کے حوالے سے قومی ریاستی پالیسی کو متنازع بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آر ای کی رجسٹریشن رکھنے والے مدارس دینیہ کو بینک اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت نہ دینا خلاف قانون ہے۔ اسی طرح رجسٹرڈ مدارس کو ڈونیشنز اور کھالیں جمع کرنے سے بھی نہیں روکا جا سکتا، قانون کو ماننے والے اور ڈی جی آر ای کی رجسٹریشن اور ایس او پیز کے مطابق تعلیم دینے والے مدارس کو پریشان کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ دینی وفاق ڈی جی آر ای کے ہوتے ہوئے کسی صوبائی رجسٹریشن اتھارٹی کو قبول نہیں کریں گے۔

صوبائی حکومتیں الگ سے اتھارٹیاں بنانے کی سوچ کو بدلیں، انہوں نے کہا کہ آئندہ کے لائحہ عمل اور مسائل کے حل کے لئے متحدہ مدارس کونسل پاکستان کا اہم اجلاس 5مئی کو اسلام آباد میں ہوگا۔ اجلاس میں صدر اتحاد المدارس مفتی محمد زبیر فہیم ،ناظم اعلیٰ کنز المدارس مفتی محمد عادل عطاری، چیئرمین وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، نائب صدر مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ لاہور علامہ توقیر عباس، مجمع العلوم الاسلامیہ کراچی کے راہنما انجینئر علامہ محمد عثمان، ناظم اعلی اتحاد المدارس الاسلامیہ کراچی مفتی اکرام اللہ واحدی، بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن کے صدر شیخ مفتی عبداللطیف ،علامہ محمد ندیم شمس اور دیگر نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین