پاکستانی شہریوں پر حملے ناقابل برداشت، افغان حکومت نے حد پار کر دی: صدر آصف زرداری

اسلامی دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے افغان حکومت کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کر دی ہے۔

صدر مملکت نے افغان طالبان کی جانب سے مبینہ ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت کے ذریعے افغانستان میں قائم حکومت مسلسل اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر رہی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔

پاکستان کے شہری علاقوں پر حملوں کی مذمت

صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ڈرون حملے قابلِ مذمت ہیں اور ایسے اقدامات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ حکومت نے عالمی برادری اور پاکستان کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، مگر عملی طور پر اس وعدے پر عملدرآمد نظر نہیں آ رہا۔

صدر کے مطابق افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی اپنی ذمہ داریوں سے بھی مسلسل چشم پوشی کر رہی ہے۔

پاکستان کو چیلنج کرنے کی کوشش

صدر مملکت نے کہا کہ افغان حکومت ایک طرف دوست ممالک سے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنا کر ایک خطرناک راستہ اختیار کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرز عمل کے ذریعے دراصل اسلامی دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو خطے کے امن کے لیے تشویش ناک ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

زخمی شہریوں کے لیے دعا

صدر آصف زرداری نے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں مبینہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کی رائے

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر سرحد پار حملوں کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ایک سنگین موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی پہلے ہی موجود ہے اور ایسے واقعات اس کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق اس صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سفارتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

عوامی ردعمل

پاکستان میں اس معاملے پر عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو سرحدی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانی چاہیے تاکہ شہری علاقوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے اور مختلف حلقے حکومت سے سخت ردعمل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات پہلے ہی کئی پیچیدہ مسائل کا شکار ہیں اور حالیہ بیانات سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول اگر سرحدی علاقوں میں ایسے واقعات جاری رہے تو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ایک طرف اپنی سرحدوں کا مؤثر دفاع کرے اور دوسری جانب سفارتی سطح پر صورتحال کو مزید بگڑنے سے بھی روکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین