(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران نے امریکا کے سامنے ایک نئی سفارتی پیشکش رکھ دی ہے جس میں Strait of Hormuz کو کھولنے اور جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے مرحلہ وار فارمولہ تجویز کیا گیا ہے، جس کے بعد خطے میں جاری بحران کے حل کی نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکزیوس کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تجویز دی ہے کہ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے اور جنگ بندی کی جانب پیش رفت کی جائے، جبکہ حساس معاملات جیسے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھا جائے، تاکہ فوری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ پیغام پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا، جو اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے پل کا کردار نبھا رہا ہے، جسے عالمی سطح پر بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکی صدر Donald Trump کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے آپشنز محدود ہو سکتے ہیں، خاص طور پر یورینیم افزودگی جیسے اہم معاملے پر فوری پیش رفت ممکن نہیں رہے گی۔
ماہرین کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران کم از کم ایک دہائی کیلئے یورینیم افزودگی معطل کرے، تاہم ایران کی موجودہ تجویز میں اس اہم نکتے کو فوری طور پر شامل نہیں کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے اور مذاکرات آسان نہیں ہوں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی معیشت بالخصوص تیل کی سپلائی اس صورتحال سے متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث عالمی طاقتیں اس تنازع کے جلد حل کی خواہاں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ مرحلہ وار فارمولہ ایک عملی حکمت عملی ہو سکتی ہے جس کے ذریعے فوری تناؤ کو کم کر کے بعد میں بڑے تنازعات پر بات چیت کی جا سکے، تاہم اس کی کامیابی کا دارومدار امریکا کے ردعمل اور باہمی اعتماد کی بحالی پر ہوگا۔





















