(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے ابھی مزید کوششوں کی ضرورت ہے، جبکہ اس عمل میں پاکستان کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔
سینٹ پیٹرزبرگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال ہوئے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملی، جسے ایک مثبت سفارتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق ماضی میں مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ امریکا کی غلط پالیسیاں اور حد سے زیادہ مطالبات تھے، جنہوں نے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو مشکل بنا دیا، تاہم حالیہ ملاقاتوں میں ان معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور آئندہ کیلئے ایک بہتر طریقہ کار پر بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ روس کے صدر Vladimir Putin سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں موجودہ جنگی صورتحال اور خطے کی تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ ایران اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی مشاورت کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق موجودہ حالات میں ایران اور روس کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی نہایت ضروری ہو چکی ہے، کیونکہ خطے میں بدلتی صورتحال کے تناظر میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے ایک نیا سفارتی بلاک ابھر رہا ہے، جو نہ صرف مذاکرات کو بچانے بلکہ ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ پیش رفت اس امر کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ پیچیدہ عالمی تنازعات کے حل کیلئے براہ راست تصادم کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاہم حتمی کامیابی کیلئے فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔





















