رعشہ کے مریضوں کیلئے کھانسی کی دوا مفید قرار، تحقیق

تحقیق میں 55 پارکنسنز کے مریضوں کو شامل کیا گیا جو ڈیمینشیا کی علامات سے دوچار تھے

لندن/کینیڈا: ایک حالیہ تحقیق نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے کہ یورپ میں عام طور پر کھانسی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والا شربت ’ایمبروکسول‘ پارکنسنز بیماری کے شکار افراد میں ڈیمینشیا کی پیش رفت کو سست کر سکتا ہے۔ یہ دریافت پارکنسنز کے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک نئی امید کی کرن لے کر آئی ہے، جو اس بیماری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دماغی پیچیدگیوں سے نبرد آزما ہیں۔

پارکنسنز اور ڈیمینشیا

پارکنسنز بیماری، جو اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے، نہ صرف جسمانی رعشہ اور حرکت میں دشواری کا باعث بنتی ہے بلکہ اس کے مریضوں میں سے تقریباً 50 فیصد افراد دس سال کے اندر ڈیمینشیا کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈیمینشیا کی وجہ سے مریضوں کو یادداشت کی کمی، ذہنی الجھن، بصری فریب (ہیلوسینیشنز)، اور موڈ میں تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ علامات نہ صرف مریضوں کی زندگی کو مشکل بناتی ہیں بلکہ ان کے خاندانوں اور صحت کے نظام پر بھی بھاری بوجھ ڈالتی ہیں۔

کینیڈا کی ویسٹرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے نیورولوجسٹ ڈاکٹر اسٹیفن پاسٹرناک نے بتایا کہ موجودہ علاج پارکنسنز اور اس سے منسلک ڈیمینشیا کی علامات کو وقتی طور پر کم کر سکتے ہیں، لیکن یہ بیماری کی اصل وجوہات کو روکنے یا اس کی رفتار کو سست کرنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس ایسی دوائیں ہیں جو علامات کو کنٹرول کرتی ہیں، لیکن ہمیں ایسی تھراپی کی ضرورت ہے جو بیماری کے بڑھنے کو روک سکے۔‘‘

ایمبروکسول

ایک سال تک جاری رہنے والی ایک نئی تحقیق نے اس خلا کو پر کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ یہ تحقیق، جو چھوٹے پیمانے پر کی گئی، یورپ میں دہائیوں سے کھانسی اور گلے کی خراش کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا ’ایمبروکسول‘ پر مرکوز تھی۔ یہ دوا، جو عام طور پر شربت یا گولی کی شکل میں دستیاب ہے، اپنی حفاظت اور کم مضر اثرات کی وجہ سے مشہور ہے۔

تحقیق میں 55 پارکنسنز کے مریضوں کو شامل کیا گیا جو ڈیمینشیا کی علامات سے دوچار تھے۔ ان مریضوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا: ایک گروپ کو روزانہ ایمبروکسول کی خوراک دی گئی، جبکہ دوسرے گروپ کو پلیسبو (ایک غیر فعال مادہ) دیا گیا۔ محققین نے مریضوں کی یادداشت، نفسیاتی علامات، اور دماغی نقصان سے متعلق ایک اہم بائیو مارکر ’جی ایف اے پی‘ (Glucosylceramide Synthase) کی سطح کا جائزہ لیا، جو پارکنسنز ڈیمینشیا کی شدت سے منسلک ہے۔

نتائج نے ظاہر کیا کہ جن مریضوں نے پلیسبو لیا، ان کی نفسیاتی علامات جیسے کہ الجھن اور ہیلوسینیشنز میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس، ایمبروکسول لینے والے مریضوں میں یہ علامات نہ صرف مستحکم رہیں بلکہ ان کی دماغی صحت کے زوال کی رفتار میں واضح کمی دیکھی گئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ ایمبروکسول دماغ میں پروٹین کے جمع ہونے (جو پارکنسنز ڈیمینشیا کی ایک اہم وجہ ہے) کو کم کرتی ہے، جس سے بیماری کی پیش رفت سست ہوتی ہے۔

تحقیق کی اہمیت

یہ تحقیق، اگرچہ محدود پیمانے پر کی گئی، پارکنسنز کے مریضوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ڈاکٹر پاسٹرناک نے کہا، ’’ایمبروکسول ایک ایسی دوا ہے جو پہلے سے ہی محفوظ ثابت ہو چکی ہے اور اسے دہائیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ ڈیمینشیا کی رفتار کو سست کر سکتی ہے تو یہ پارکنسنز کے علاج میں ایک انقلاب لا سکتی ہے۔‘‘

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ نتائج ابتدائی ہیں اور بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے تاکہ ایمبروکسول کی افادیت اور حفاظت کی تصدیق کی جا سکے۔ تاہم، اس دوا کی دستیابی اور کم لاگت اسے ایک پرکشش آپشن بناتی ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں پارکنسنز کے مریضوں کے لیے مہنگے علاج تک رسائی محدود ہے۔

پارکنسنز ڈیمینشیا: ایک عالمی مسئلہ

پارکنسنز بیماری دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے، اور اس سے وابستہ ڈیمینشیا اس کے سب سے سنگین نتائج میں سے ایک ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، 2040 تک پارکنسنز کے مریضوں کی تعداد دوگنی ہو سکتی ہے، جو اس بیماری کے علاج کے لیے نئی تھراپیز کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ ڈیمینشیا نہ صرف مریضوں کی زندگی کے معیار کو گراتا ہے بلکہ ان کے خاندانوں پر جذباتی اور مالی دباؤ بھی ڈالتا ہے۔

پاکستان میں بھی پارکنسنز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر عمر رسیدہ آبادی میں۔ پاکستانی ماہرین صحت نے اس تحقیق کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایمبروکسول کے نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ پاکستانی مریضوں کے لیے ایک سستی اور قابل رسائی علاج ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک ایکس صارف نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، ’’ایک عام کھانسی کا شربت پارکنسنز ڈیمینشیا کے خلاف امید بن سکتا ہے؟ یہ سائنس کی طاقت ہے!‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’پاکستان میں پارکنسنز کے مریضوں کے لیے یہ ایک بڑی خبر ہے۔ امید ہے کہ جلد بڑے پیمانے پر ٹرائلز ہوں گے۔‘‘

مستقبل کے امکانات

محققین اب اس دوا کی افادیت کو جانچنے کے لیے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز کی تیاری کر رہے ہیں، جو مختلف ممالک میں ہوں گے۔ یہ ٹرائلز ایمبروکسول کی طویل مدتی حفاظت، خوراک، اور دماغی پروٹینز پر اس کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔ ویسٹرن یونیورسٹی کے محققین نے کہا کہ اگر یہ نتائج بڑے پیمانے پر درست ثابت ہوئے تو ایمبروکسول پارکنسنز ڈیمینشیا کے علاج میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ مریضوں کو خود سے ایمبروکسول کا استعمال شروع نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی مناسب خوراک اور اثرات کو صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر پاسٹرناک نے کہا، ’’یہ ایک امید افزا آغاز ہے، لیکن ہمیں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ دوا ہر مریض کے لیے محفوظ اور موثر ہے۔‘‘

ایمبروکسول، جو یورپ میں ایک عام کھانسی کا شربت ہے، پارکنسنز کے مریضوں میں ڈیمینشیا کی رفتار کو سست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کینیڈا کی ویسٹرن یونیورسٹی کی اس تحقیق نے ثابت کیا کہ یہ دوا دماغی علامات کو مستحکم رکھ سکتی ہے، جو پارکنسنز کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک بڑی امید ہے۔ اگرچہ یہ نتائج ابتدائی ہیں، لیکن اس سستی اور آسانی سے دستیاب دوا کی صلاحیت نے سائنسدانوں اور مریضوں کو یکساں پرجوش کر دیا ہے۔ بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز کے نتائج اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ دوا پارکنسنز ڈیمینشیا کے علاج میں ایک نئی راہ کھول سکتی ہے، لیکن فی الحال یہ تحقیق سائنس کی دنیا میں ایک روشن امکان کی عکاسی کرتی ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین