بابر اعظم واقعی انجری کا شکار یا کچھ اور؟ فیصل اقبال کی مبہم پوسٹ نے نئی بحث چھیڑ دی

ایک روز قبل خبر سامنے آئی کہ بابر اعظم انجری کے باعث پہلے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے ہیں

(اسپورٹس ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ٹیسٹ کرکٹر Faisal Iqbal کی ایک مبہم اور ذو معنی سوشل میڈیا پوسٹ نے قومی ٹیم کے اسٹار بیٹر Babar Azam کی انجری سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پاکستان اور Bangladesh national cricket team کے درمیان میرپور میں جاری پہلے ٹیسٹ میچ میں بابر اعظم کی غیر موجودگی نے پہلے ہی شائقین کو حیران کر رکھا تھا، تاہم فیصل اقبال کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کا طوفان کھڑا ہوگیا۔

رپورٹس کے مطابق میچ سے دو روز قبل ہی یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ بنگلادیشی ٹیم اسپن وکٹ کے بجائے گرین اور سیم بولرز کیلئے مددگار پچ تیار کر رہی ہے، جس کے باعث پاکستانی ٹیم کمبی نیشن کے حوالے سے مختلف سوالات سامنے آ رہے تھے۔

پھر میچ سے ایک روز قبل خبر سامنے آئی کہ بابر اعظم انجری کے باعث پہلے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے ہیں۔ پاکستان ٹیم اس میچ میں تین فاسٹ بولرز اور دو ڈیبیوٹنٹ بلے بازوں کے ساتھ میدان میں اتری۔

اسی دوران فیصل اقبال نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے کسی کھلاڑی کا نام لیے بغیر لکھا کہ “بڑے بڑے بھگوڑے بیٹر میں نے اپنے دور میں دیکھے ہیں جو گرین پچ دیکھ کر اپنی ایوریج خراب نہ ہونے کے لیے فیک انجری کا بہانہ بنا کر بیٹھ جاتے تھے۔”

انہوں نے مزید لکھا کہ ایسے مواقع پر انہیں مشکل وکٹوں پر کھیلنے کیلئے بھیجا جاتا تھا جبکہ بعد میں گروپنگ کے ذریعے اچھی کارکردگی کے باوجود ڈراپ بھی کر دیا جاتا تھا۔

فیصل اقبال کی اس پوسٹ کو سوشل میڈیا صارفین نے فوری طور پر بابر اعظم کی انجری سے جوڑ دیا، جس کے بعد مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق فیصل اقبال کی پوسٹ نے ایک حساس وقت پر غیر ضروری تنازع کھڑا کر دیا ہے کیونکہ بابر اعظم اس وقت قومی ٹیم کے اہم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں ماضی سے گروپنگ، پسند و ناپسند اور ڈریسنگ روم سیاست کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں، اسی لیے اس قسم کی پوسٹس فوری طور پر توجہ حاصل کر لیتی ہیں۔

ان کے مطابق اگر بابر اعظم واقعی انجری کا شکار ہیں تو ٹیم مینجمنٹ کو مکمل وضاحت دینی چاہیے تاکہ شائقین کے ذہنوں میں موجود ابہام دور ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ بھی بڑے تنازع میں تبدیل ہو جاتی ہے، اس لیے سابق کرکٹرز کو الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر صارفین کی رائے اس معاملے پر تقسیم دکھائی دی۔ کچھ افراد نے فیصل اقبال کی پوسٹ کو بابر اعظم پر تنقید قرار دیا جبکہ کئی صارفین نے کہا کہ بغیر ثبوت کسی کھلاڑی پر الزام لگانا درست نہیں۔

بابر اعظم کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کیلئے مسلسل کھیلنے والا کھلاڑی انجری کا شکار بھی ہو سکتا ہے اور ہر چیز کو تنازع بنانا مناسب نہیں۔

دوسری جانب بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر بابر مکمل فٹ نہیں تھے تو ٹیم مینجمنٹ نے پہلے واضح اعلان کیوں نہیں کیا۔

تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

کرکٹ تجزیہ نگاروں کے مطابق گرین پچز پر ٹیم کمبی نیشن تبدیل ہونا ایک عام حکمت عملی ہے اور بعض اوقات سینئر کھلاڑیوں کو ورک لوڈ یا انجری مسائل کے باعث آرام بھی دیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصل اقبال کی پوسٹ نے اگرچہ بحث چھیڑ دی ہے، تاہم جب تک ٹیم مینجمنٹ یا میڈیکل رپورٹس سامنے نہیں آتیں، کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اس تنازع سے ایک بار پھر پاکستان کرکٹ میں شفافیت، ٹیم کمیونیکیشن اور سوشل میڈیا رویوں پر سوالات ضرور اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

اس معاملے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا بابر اعظم واقعی انجری کا شکار ہیں یا معاملہ کچھ اور ہے؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین