خوشیوں کی تقریب میں ہنگامی صورتحال، ایک ڈش نے سینکڑوں زندگیاں خطرے میں ڈال دیں

حیدرآباد میں شادی کی خوشیاں پریشانی میں بدل گئیں، فوڈ پوائزننگ کے باعث بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت 107 افراد متاثر

حیدرآباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں شادی کی ایک تقریب اس وقت افسوسناک صورتحال اختیار کر گئی جب تقریب میں پیش کیا گیا کسٹرڈ کھانے کے بعد 107 سے زائد افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو گئے اور انہیں مختلف طبی مسائل کے باعث فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا پڑا۔

اطلاعات کے مطابق متاثرہ افراد میں بچے، نوجوان، خواتین اور بزرگ شہری شامل ہیں جنہوں نے تقریب میں کھانا کھانے کے بعد اچانک طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی۔ متعدد افراد کو شدید پیٹ درد، قے، متلی اور کمزوری کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قاسم آباد تعلقہ اسپتال منتقل کیا گیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے اضافی طبی عملے کو طلب کر لیا اور متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق تقریب معمول کے مطابق جاری تھی لیکن کسٹرڈ کھانے کے کچھ ہی دیر بعد متعدد افراد کی حالت غیر ہونے لگی جس کے بعد ایک کے بعد ایک متاثرہ افراد کو اسپتال منتقل کیا جانے لگا۔

متاثرہ نوجوانوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تقریب میں کھانے کے بعد جب کسٹرڈ کھایا تو چند منٹ بعد ہی طبیعت بگڑنے لگی اور شدید پیٹ درد اور قے شروع ہو گئی۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن نے بتایا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق کسٹرڈ ہی فوڈ پوائزننگ کی بنیادی وجہ معلوم ہوتا ہے تاہم حتمی رپورٹ لیبارٹری تجزیے کے بعد سامنے آئے گی۔

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے سندھ فوڈ اتھارٹی کو فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ متعلقہ پکوان سینٹر اور کھانے کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔

صحت حکام کے مطابق متاثرہ افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے اور بیشتر مریضوں کی طبیعت میں بہتری آ رہی ہے تاہم احتیاطی طور پر انہیں زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر پیر غلام حسین نے کہا کہ تمام متاثرین کو بروقت طبی امداد فراہم کی گئی جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ تقریبات میں کھانے پینے کی اشیاء کے معیار پر خصوصی توجہ دی جائے۔

فوڈ سیفٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں دودھ، کریم اور انڈوں سے تیار کی جانے والی غذائیں جلد خراب ہو سکتی ہیں اور اگر انہیں مناسب درجہ حرارت پر محفوظ نہ رکھا جائے تو بیکٹیریا تیزی سے افزائش پاتے ہیں جو فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق شادی ہالز اور کیٹرنگ سروس فراہم کرنے والے اداروں کو فوڈ سیفٹی کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے تاکہ اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ واقعہ فوڈ سیفٹی نظام پر کئی سوالات اٹھا رہا ہے۔ شادیوں اور بڑی تقریبات میں ہزاروں افراد کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے لیکن معیار کی جانچ کا مؤثر نظام اکثر نظر نہیں آتا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو ایسے واقعات مستقبل میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

عوامی ردعمل

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کئی صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ناقص خوراک فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ عوام کی جانوں سے کھیلنے والوں کو عبرتناک سزا مل سکے۔

ماہرین کی رائے

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فوڈ پوائزننگ کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ متاثرہ افراد کو پانی کا زیادہ استعمال، آرام اور بروقت علاج سے پیچیدگیوں سے بچایا جا سکتا ہے۔

خوراک انسانی صحت کا بنیادی جزو ہے اور اس کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ شادی ہالز، کیٹرنگ سروسز اور فوڈ سپلائرز کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنائیں۔

میری رائے میں یہ واقعہ صرف ایک شادی کی تقریب تک محدود نہیں بلکہ فوڈ سیفٹی کے مجموعی نظام کیلئے ایک وارننگ ہے۔ عوام کی صحت کے تحفظ کیلئے سخت نگرانی، باقاعدہ انسپکشن اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین