جنگ بندی معاہدے پر دستخط، پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے امکانات

وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی مسلسل سفارتی کوششیں مثبت نتائج دے رہی ہیں:وفاقی وزیر پٹرولیم

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی مسلسل سفارتی کوششیں مثبت نتائج دے رہی ہیں، اور ایران و امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ حتمی مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست فائدہ عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی مقصد کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک شفاف اور ہفتہ وار بنیادوں پر نظرثانی کرنے والا نیا فارمولا تیار کرنے کی غرض سے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجوہات کو عوام کے لیے واضح اور قابلِ فہم بنانا ہے، جبکہ یہ فارمولا تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تشکیل دیا جائے گا تاکہ شفافیت اور اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔

علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان میں تیل کی سپلائی چین مکمل طور پر فعال اور بلا تعطل جاری رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت توانائی کے تحفظ سے متعلق پالیسی فریم ورک کا ازسرِنو جائزہ بھی لے رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ توانائی کے شعبے میں قومی مفادات کے تحفظ اور طویل المدتی سلامتی کے لیے کئی نئے اقدامات زیر غور ہیں اور ان پر عملی پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے اس دوران تعاون کرنے والے تمام شراکت داروں اور عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی پاکستان جیسے درآمدی ملک کے لیے عموماً مثبت خبر سمجھی جاتی ہے، کیونکہ پاکستان اپنی بڑی توانائی ضروریات کے لیے تیل درآمد کرتا ہے۔ اس لیے عالمی منڈی میں کمی کا رجحان براہِ راست مقامی صارفین کے لیے ریلیف کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ یہ ریلیف کس حد تک اور کتنی جلدی عوام تک منتقل ہوتا ہے۔ ماضی میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ عالمی قیمتوں میں کمی کا اثر مقامی سطح پر فوری یا مکمل طور پر منتقل نہیں ہوتا، جس کی وجہ ٹیکس، لیوی، اور دیگر قیمتوں کے تعین کے عوامل ہوتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم قیمتوں کے لیے ’’شفاف ہفتہ وار فارمولا‘‘ بنانے کا اعلان اسی سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر یہ نظام واقعی شفاف اور مستقل بنیادوں پر نافذ ہو جاتا ہے تو اس سے قیمتوں کے تعین پر اعتماد میں اضافہ ہوگا اور سیاسی و معاشی بحث میں بھی واضحیت آئے گی۔

سپلائی چین کے مستحکم رہنے کا دعویٰ بھی اہم ہے، کیونکہ علاقائی کشیدگی کے دوران اکثر توانائی کے نظام متاثر ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان نے اس مرحلے پر سپلائی کو برقرار رکھا ہے تو یہ انتظامی سطح پر ایک مثبت پیش رفت ہے۔

مجموعی طور پر یہ صورتحال وقتی ریلیف کی امید تو پیدا کرتی ہے، لیکن اصل اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ مقامی صارف تک کتنی مؤثر اور شفاف طریقے سے منتقل کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین