آم کے شوقین افراد کیلئے ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اس کا حد سے بڑھا ہوا استعمال بعض جسمانی مسائل کا سبب بن سکتا ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)گرمیوں کے موسم میں آم سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے پھلوں میں شمار ہوتا ہے، اسی لیے اسے اکثر ’’پھلوں کا بادشاہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا منفرد ذائقہ اور غذائیت سے بھرپور خصوصیات اسے ہر عمر کے افراد میں مقبول بناتی ہیں۔ آم میں مختلف وٹامنز، معدنیات اور دیگر ضروری غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں، تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس کا حد سے بڑھا ہوا استعمال بعض جسمانی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آم میں قدرتی طور پر شکر کی مقدار کافی زیادہ پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اسے ضرورت سے زیادہ کھایا جائے تو بعض افراد میں جلد سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ زیادہ میٹھی غذائیں جسم میں سوزش کے عمل کو بڑھا سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں چہرے پر دانے یا کیل مہاسے نمودار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ پہلے سے موجود جلدی مسائل بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

وزن میں اضافے کے حوالے سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ چونکہ آم توانائی اور قدرتی مٹھاس سے بھرپور ہوتا ہے، اس لیے جو لوگ جسمانی سرگرمی کم کرتے ہیں، ان کے لیے زیادہ مقدار میں آم کھانا اضافی کیلوریز کا باعث بن سکتا ہے، جو وقت کے ساتھ وزن بڑھنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔

نظامِ ہاضمہ پر بھی اس کے زیادہ استعمال کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض افراد اگر بڑی مقدار میں آم کھائیں تو انہیں پیٹ میں بھاری پن، گیس، اپھارہ یا اسہال جیسی شکایات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کو جن کی غذا میں فائبر کی مقدار متوازن نہ ہو۔

ذیابیطس یا انسولین مزاحمت کے مریضوں کے لیے آم کھانے میں اعتدال اختیار کرنا زیادہ اہم ہے۔ اس پھل میں موجود قدرتی شکر خون میں گلوکوز کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتی ہے، اس لیے ایسے افراد کو اپنی خوراک میں آم کی مقدار کے تعین کے لیے معالج کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

کچھ لوگوں کو آم زیادہ کھانے کے بعد معدے کی تیزابیت یا سینے میں جلن کی شکایت بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ یہ مسئلہ عموماً ان افراد میں زیادہ دیکھا جاتا ہے جو پہلے ہی معدے یا ہاضمے سے متعلق حساسیت رکھتے ہوں۔

دانتوں کی صحت کے حوالے سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ آم میں موجود شکر اگر منہ میں دیر تک باقی رہے تو دانتوں میں کیڑا لگنے یا کیویٹی بننے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین آم کھانے کے بعد منہ صاف رکھنے اور دانتوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ آم اپنی غذائی افادیت کے باعث ایک بہترین پھل ہے اور مناسب مقدار میں اس کا استعمال متعدد فوائد فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم ہر مفید غذا کی طرح اس کے استعمال میں بھی توازن برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ اس کے مثبت اثرات سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ممکنہ منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

روزنامہ تحریک کے صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ آم کو بجا طور پر پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف ذائقے میں منفرد ہے بلکہ وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر اور مختلف معدنیات سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں اس کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے اور بیشتر لوگ اسے روزمرہ خوراک کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ تاہم صحت کے ماہرین کی جانب سے بار بار اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ کسی بھی مفید غذا کی طرح آم کا استعمال بھی اعتدال کے ساتھ ہونا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ آم میں قدرتی شکر کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ شکر مصنوعی مٹھاس سے مختلف ہوتی ہے، لیکن زیادہ مقدار میں استعمال کے نتیجے میں جسم کو اضافی کیلوریز ملتی ہیں جو وزن میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ موجودہ دور میں موٹاپا دنیا بھر میں ایک بڑا طبی مسئلہ بن چکا ہے، اس لیے غذائی عادات میں توازن برقرار رکھنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ معاملہ مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اگرچہ آم مکمل طور پر ممنوع پھل نہیں، لیکن اس کی مقدار اور وقت کا تعین ڈاکٹر یا ماہر غذائیت کے مشورے کے مطابق ہونا چاہیے۔ اسی طرح ہاضمے کے مسائل، معدے کی حساسیت یا تیزابیت کا شکار افراد بھی زیادہ آم کھانے کے بعد بعض ناخوشگوار علامات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

اس خبر کا اہم پہلو یہ ہے کہ یہ آم کے استعمال سے منع نہیں کرتی بلکہ اس کے بے جا استعمال کے ممکنہ نتائج کی نشاندہی کرتی ہے۔ دراصل صحت مند طرزِ زندگی کا بنیادی اصول یہی ہے کہ غذائیت سے بھرپور اشیا بھی متوازن مقدار میں استعمال کی جائیں۔ آم اپنی تمام تر غذائی خصوصیات کے باوجود اسی اصول سے مستثنیٰ نہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آم ایک مفید، لذیذ اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے، لیکن اس کے فوائد سے بھرپور انداز میں مستفید ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اسے متوازن خوراک کا حصہ بنایا جائے۔ اعتدال ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو غذائی فوائد فراہم کرتا ہے اور ممکنہ طبی پیچیدگیوں سے محفوظ بھی رکھتا ہے۔

نوٹ: یہ معلومات صرف عمومی آگاہی کے مقصد کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے یا طبی رہنمائی کے لیے مستند ڈاکٹر یا ماہر صحت سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین