پاکستان میں ایڈز کے کیسز میں اضافہ، 84 ہزار متاثر، 61 ہزار زیرِ علاج

جبکہ ہزاروں افراد ایسے بھی ہیں جن کا سراغ تاحال نہیں لگایا جا سکا

اسلام آباد: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ملک میں HIV/AIDS کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 61 ہزار مریض زیر علاج ہیں، جبکہ ہزاروں افراد ایسے بھی ہیں جن کا سراغ تاحال نہیں لگایا جا سکا، جو صحت کے نظام کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

وفاقی وزیر صحت Mustafa Kamal نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ملک میں ایڈز کے خلاف جاری 65 ملین ڈالر کے پروگرام میں سے 61.1 ملین ڈالر United Nations Development Programme اور ’’نئی زندگی‘‘ نامی این جی او کو جاری کیے جا چکے ہیں، تاکہ بیماری کی روک تھام اور علاج کے اقدامات کو مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ 2020 میں ملک بھر کے 49 مراکز پر تقریباً 38 ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی، جن میں سے قریباً 7 ہزار کیسز مثبت آئے، جبکہ 2025 تک ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد بڑھ کر 97 ہو گئی اور 3 لاکھ 74 ہزار سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں 14 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے، جو بیماری کے پھیلاؤ کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

وزیر صحت کے مطابق ایڈز ایک قابلِ علاج بیماری ہے اور اس کی ادویات سرکاری مراکز پر مفت فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم اصل مسئلہ ایسے مریضوں تک رسائی ہے جو ابھی تک صحت کے نظام میں شامل نہیں ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے حکومت 10 سی سی سرنج پر پابندی عائد کرنے جا رہی ہے، تاکہ استعمال شدہ سرنج کے دوبارہ استعمال کو روکا جا سکے، کیونکہ یہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے کیسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صرف علاج ہی نہیں بلکہ آگاہی، بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر بھی انتہائی ضروری ہیں، کیونکہ خاموشی سے پھیلنے والی یہ بیماری معاشرے کیلئے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت، طبی ادارے اور عوام مل کر اس بیماری کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، تاکہ نہ صرف متاثرہ افراد کا علاج ممکن ہو بلکہ نئے کیسز کو بھی روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین