لندن : برطانیہ میں ہاؤسنگ چیریٹی شیلٹر کی جانب سے ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ برطانوی پارلیمان کی مدت ختم ہونے تک انگلینڈ میں 2 لاکھ سے زائد بچے عارضی اور ہنگامی رہائش گاہوں میں رہ رہے ہوں گے، اور 2029 تک ان کی تعداد میں مزید 26 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ یہ اس مسئلے میں مجموعی طور پر 71 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ رپورٹ انگلینڈ میں رہائش کے سنگین بحران کو ظاہر کرتی ہے، جہاں کئی خاندان مختلف عارضی ٹھکانوں جیسے ہاسٹلز، کمروں، اور بی اینڈ بی (بستر اور ناشتہ) میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مقامی کونسلیں ان جگہوں کو حاصل کرنے کے لیے عام کرایہ سے 60 فیصد زیادہ ادائیگی کر رہی ہیں تاکہ ان خاندانوں کو بے گھر ہونے سے بچایا جا سکے۔
بہت سے خاندان سالوں تک ان عارضی رہائش گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں صفائی ستھرائی کا برا حال ہوتا ہے اور رہنے کے حالات غیر صحت مند ہوتے ہیں۔ شیلٹر کے پالیسی ڈائریکٹر کے مطابق یہ ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے کہ بہت سے بچے تنگ، غیر محفوظ اور غیر موزوں جگہوں میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں وہ بہن بھائیوں کے ساتھ بستر بانٹنے پر مجبور ہیں، ٹرے پر کھانا کھاتے ہیں اور بار بار نقل مکانی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے ایسا ماحول کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تعداد اور بڑھے گی۔
حکومتی پالیسی کے مطابق جب کوئی فرد یا خاندان رہائش کی تلاش میں مقامی کونسل سے رابطہ کرتا ہے تو انہیں وقتی طور پر عارضی جگہ دی جاتی ہے، جب تک کہ مستقل رہائش کے لیے ان کی اہلیت کا جائزہ مکمل نہیں ہو جاتا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 17 ہزار خاندان 5 سال سے زیادہ عرصے سے عارضی گھروں میں رہ رہے ہیں، اور لندن میں 60 فیصد سے زائد خاندانوں کے بچے دو سال یا اس سے زیادہ عرصے سے ایسی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ جگہیں گندی، کیڑے مکوڑوں سے بھری ہوئی اور غیر محفوظ ہیں۔





















