ماہرین کے مطابق روزانہ تقریباً 170 گرام دالیں، چنے یا لوبیا جبکہ 60 سے 80 گرام سویا سے بنی غذائیں جیسے Tofu اور ایڈامامی استعمال کرنا دل اور بلڈ پریشر کی صحت کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق مختلف بین الاقوامی سائنس دانوں اور King’s College London سے وابستہ محققین نے انجام دی، جس کے نتائج طبی جریدے BMJ Nutrition Prevention & Health میں شائع ہوئے۔
تحقیق میں 12 مختلف مطالعات کے ڈیٹا کو یکجا کرکے تفصیلی تجزیہ کیا گیا تاکہ غذائی عادات اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
نتائج کے مطابق جو افراد زیادہ مقدار میں دالیں، لوبیا اور سویا استعمال کرتے تھے، اُن میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ نسبتاً کم دیکھا گیا۔
تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ دالیں اور سویا کھانے والے افراد میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بالترتیب 16 فیصد اور 19 فیصد تک کم پایا گیا۔
مجموعی تجزیے میں یہ بھی سامنے آیا کہ روزانہ تقریباً 170 گرام دالیں، چنے یا لوبیا کھانے سے ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں تقریباً 30 فیصد کمی آ سکتی ہے، جبکہ 60 سے 80 گرام سویا غذا استعمال کرنے سے یہ خطرہ 28 سے 29 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق جدید طرزِ زندگی، فاسٹ فوڈ اور غیر متوازن غذا نے دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ روایتی اور قدرتی غذائیں انسانی صحت کیلئے انتہائی اہم ہیں۔
ان کے مطابق جنوبی ایشیا میں دالیں اور چنے صدیوں سے روزمرہ خوراک کا حصہ رہے ہیں، لیکن جدید فاسٹ فوڈ کلچر نے ان صحت بخش غذاؤں کی جگہ غیر صحت مند خوراک کو فروغ دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر لوگ اپنی روزمرہ غذا میں دالیں، لوبیا اور سویا جیسی غذائیں دوبارہ شامل کریں تو دل اور بلڈ پریشر سے متعلق بیماریوں میں نمایاں کمی ممکن ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر اس تحقیق کے بعد کئی صارفین نے روایتی گھریلو غذا کو “قدرتی دوا” قرار دیا۔
بعض افراد نے لکھا کہ “ہماری دال روٹی ہی اصل سپر فوڈ ہے” جبکہ کچھ صارفین نے کہا کہ جدید فاسٹ فوڈ کے مقابلے میں دالیں کہیں زیادہ فائدہ مند اور سستی غذا ہیں۔
کئی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اب نوجوان نسل کو پروٹین کیلئے صرف مہنگی ڈائٹس نہیں بلکہ روایتی غذاؤں کی اہمیت بھی سمجھنی چاہیے۔
تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
طبی ماہرین کے مطابق دالیں، لوبیا اور سویا فائبر، پروٹین، پوٹاشیم اور دیگر مفید غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتے ہیں جو دل کی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر دنیا بھر میں دل کے دورے اور فالج کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، اس لیے متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ صحت مند زندگی کیلئے ہمیشہ مہنگی یا غیر ملکی غذا ضروری نہیں بلکہ سادہ گھریلو خوراک بھی حیران کن فوائد رکھتی ہے۔





















