پروپیگنڈے، جعلی خبروں اور دہشتگردی سے پاکستان کی ترقی نہیں روکی جا سکتی، فیلڈ مارشل عاصم منیر

پاکستان کی مسلح افواج عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں۔فیلڈ مارشل

کوئٹہ (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان کے فیلڈ مارشل Syed Asim Munir نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈے، جعلی خبروں اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے Command and Staff College Quetta کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ تربیت افسران اور فیکلٹی سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جدید جنگ کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ملٹی ڈومین آپریشنز، تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی اور مستقبل کے جنگی چیلنجز سے مکمل آگاہی ناگزیر ہے۔

انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ خود کو اور اپنی فورسز کو مسلسل تربیت دیں تاکہ بدلتے ہوئے حالات میں مؤثر انداز سے مقابلہ کیا جا سکے۔

فیلڈ مارشل نے کالج کے اعلیٰ تربیتی معیار، فکری صلاحیت اور پیشہ ورانہ روایات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے فارغ التحصیل افسران ہمیشہ اپنی شاندار کارکردگی اور فرض شناسی کی وجہ سے نمایاں رہے ہیں۔

بعد ازاں انہوں نے بلوچستان میں تعینات افسران اور جوانوں سے ملاقات بھی کی، جہاں انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افواجِ پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف پراکسیز، منفی پروپیگنڈے اور جعلی خبروں کے ذریعے سازشیں کرنے والی قوتیں ریاست کی مضبوطی اور عوامی اتحاد کے سامنے ناکام ہوں گی۔

سید عاصم منیر نے بلوچستان میں پائیدار امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دیرپا ترقی کیلئے عوام دوست پالیسی، جامع ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی ناگزیر ہے۔

انہوں نے حکومتِ بلوچستان کی جانب سے عوامی فلاح، سماجی و معاشی ترقی اور ریاست و عوام کے درمیان تعلق مضبوط بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں امن و امان کے قیام، ریاستی رٹ برقرار رکھنے اور دہشتگردی کے خلاف آپریشنز میں افسران و جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ صلاحیت اور تیاری کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بیان موجودہ داخلی و علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت دہشتگردی، ہائبرڈ وارفیئر اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی قیادت کا “پروپیگنڈے اور بیرونی سرپرستی” کا حوالہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست دشمن عناصر نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ معلوماتی جنگ کے محاذ پر بھی سرگرم ہیں۔

ان کے مطابق بلوچستان میں امن و استحکام پاکستان کی معاشی اور تزویراتی ترقی کیلئے انتہائی اہم ہے، اسی لیے وہاں سیکیورٹی اور ترقی دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی جا رہی ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل کے بیان پر مختلف ردعمل سامنے آئے۔

کئی صارفین نے دہشتگردی کے خلاف افواجِ پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے قومی اتحاد پر زور دیا۔

بعض افراد نے جعلی خبروں اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے بڑھتے رجحان پر تشویش ظاہر کی جبکہ کئی صارفین نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو مزید تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب کچھ حلقوں نے خطے میں بدلتی صورتحال کے تناظر میں جدید جنگی تیاریوں کو ضروری قرار دیا۔

تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

دفاعی ماہرین کے مطابق جدید دور میں جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سائبر، اطلاعاتی اور نفسیاتی محاذ بھی انتہائی اہم ہو چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی کے ساتھ ساتھ “ڈس انفارمیشن وار” کا بھی سامنا ہے، جس کیلئے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق بلوچستان میں امن و ترقی کا تسلسل نہ صرف داخلی استحکام بلکہ علاقائی روابط اور معاشی منصوبوں کیلئے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

کیا پاکستان ہائبرڈ وار اور دہشتگردی کے چیلنجز پر مکمل قابو پانے میں کامیاب ہو سکے گا؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین