ٹرمپ کی “ایرانی تہذیب ختم کرنے” کی دھمکی پر دنیا میں تشویش، جوہری تصادم کے خدشات بڑھ گئے

اگر صورتحال مکمل جنگ میں تبدیل ہوئی تو اس کے اثرات عالمی سطح تک پھیل سکتے ہیں۔

لندن / واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایک برطانوی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے ایران کی “تہذیب ختم کرنے” سے متعلق سخت دھمکیوں نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور Iran کے درمیان کشیدگی کے عروج کے دوران یورپی، ایشیائی اور خلیجی سفارتی حلقوں میں یہ خدشہ شدت اختیار کر گیا تھا کہ اگر صورتحال مکمل جنگ میں تبدیل ہوئی تو اس کے اثرات عالمی سطح تک پھیل سکتے ہیں۔

برطانوی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام، اسرائیل کی سلامتی اور امریکی سخت پالیسیوں نے خطے کو انتہائی حساس مرحلے میں داخل کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بعض یورپی حکام کو خوف تھا کہ کسی غلط اندازے، میزائل حملے یا عسکری اشتعال انگیزی کے نتیجے میں تنازع ایک بڑے علاقائی بحران بلکہ ممکنہ جوہری تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایشیائی ممالک خصوصاً Japan، China اور South Korea آبنائے ہرمز سے توانائی سپلائی متاثر ہونے کے خدشے کے باعث شدید تشویش میں مبتلا تھے۔

ماہرین کے مطابق اگر خلیج میں مکمل جنگ چھڑ جاتی تو عالمی تیل منڈی، تجارتی راستے اور بین الاقوامی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی تھی۔

دوسری جانب امریکی حکام نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا تھا، نہ کہ مکمل جنگ یا جوہری تصادم کی طرف جانا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ٹرمپ کے سخت بیانات نے عالمی سفارتی حلقوں میں بے چینی پیدا کی کیونکہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست، توانائی، تجارت اور سلامتی پر مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جوہری تصادم کے خدشات اگرچہ عملی طور پر کم سمجھے جاتے ہیں، لیکن ایسے بیانات عالمی طاقتوں کو فوری سفارتی سرگرمیوں پر مجبور کر دیتے ہیں۔

ان کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے اور یہاں کسی بھی جنگی صورتحال کے اثرات پوری دنیا محسوس کرتی ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے ممکنہ جنگی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔

کئی افراد نے کہا کہ عالمی طاقتوں کو جنگی بیانات کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے جبکہ بعض صارفین نے امریکا اور ایران دونوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا۔

تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم عالمی معیشت کیلئے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک بھی کسی بڑی جنگ سے بچنے کیلئے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہے ہیں کیونکہ جنگ کی صورت میں پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق سخت بیانات اور طاقت کے مظاہرے وقتی دباؤ تو پیدا کرتے ہیں مگر طویل المدتی حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

کیا مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی مستقبل میں دنیا کو ایک نئے بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین