بجلی بل پر کیو آر کوڈ اسکینڈل، ہیکرز نے صارفین کو نشانہ بنانا شروع کردیا

بجلی بل سے متعلق معلومات صرف سرکاری اور منظور شدہ پلیٹ فارمز پر ہی درج کی جا سکتی ہیں،پاور ڈویژن

اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)Power Division Pakistan نے بجلی کے بلوں پر جعلی کیو آر کوڈز کے ذریعے صارفین کی معلومات چوری کیے جانے کے خدشے پر اہم ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق بعض جرائم پیشہ عناصر بجلی صارفین کو سبسڈی یا رعایت کے نام پر جعلی لنکس اور کیو آر کوڈز کے ذریعے دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترجمان پاور ڈویژن نے بتایا کہ صارفین کو ایک مخصوص لنک پر کلک کرکے مختلف مراحل میں اپنی معلومات درج کرنے کیلئے کہا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں 6 ہندسوں والا کوڈ بھی داخل کرنے کا کہا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق یہ طریقہ کار غیر قانونی اور خطرناک ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ہیکرز صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ بجلی بل سے متعلق معلومات صرف سرکاری اور منظور شدہ پلیٹ فارمز پر ہی درج کی جا سکتی ہیں، کسی غیر متعلقہ لنک یا کیو آر کوڈ پر معلومات فراہم نہ کی جائیں۔

ادارے نے مزید کہا کہ اس معاملے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے اور سائبر کرائم سے نمٹنے کیلئے کارروائی جاری ہے۔

صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ڈیجیٹل ڈیوائس یا کاغذ پر سبسڈی کے نام پر اپنی معلومات درج نہ کریں اور مشکوک لنکس سے مکمل احتیاط برتیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان میں آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کے بڑھتے رجحان نے عام صارفین کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ ہیکرز اب سرکاری اسکیموں، سبسڈی اور بلوں کے نام پر لوگوں کو آسانی سے دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیو آر کوڈ ٹیکنالوجی جہاں سہولت فراہم کرتی ہے وہیں جعلی کوڈز کے ذریعے مالی اور ذاتی معلومات چوری کرنے کا نیا ذریعہ بھی بن چکی ہے۔

ان کے مطابق عوام میں سائبر سیکیورٹی سے متعلق آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر صارفین نے پاور ڈویژن کی وارننگ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اکثر لوگ سبسڈی یا رعایت کے لالچ میں جعلی لنکس پر معلومات فراہم کر دیتے ہیں۔

کئی افراد نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو جعلی کیو آر کوڈز اور سائبر فراڈ کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق جعلی کیو آر کوڈ اسکیمیں دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو کسی بھی لنک یا کیو آر کوڈ کو اسکین کرنے سے پہلے اس کے سورس کی تصدیق کرنی چاہیے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق OTP یا 6 ہندسوں والے کوڈز کسی بھی غیر متعلقہ پلیٹ فارم پر درج کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے بینک اکاؤنٹس اور ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

جعلی کیو آر کوڈز اور آن لائن فراڈ سے بچنے کیلئے عوام کو مزید کیا احتیاطی اقدامات کرنے چاہئیں؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین