سانحۂ ماڈل ٹاؤن: انصاف کی تلاش میں 12سالہ جدوجہد

آج جب سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی 12ویں برسی منائی جارہی ہے تو ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر کب وہ دن آئے گا جب شہداء کے لواحقین، زخمیوں اور انصاف کے متلاشی افراد کو مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ انصاف مل سکے گا؟

تحریر: راؤ محمد عارف رضوی

پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو محض ایک حادثہ نہیں بلکہ قومی ضمیر پر ایک گہرا نقش چھوڑ گئے ہیں۔ سانحۂ ماڈل ٹاؤن بھی ایسا ہی ایک المناک واقعہ ہے جسے گزرے بارہ برس کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، مگر اس کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ 17 جون 2014ء کا دن پاکستان کی تاریخ کے ان سیاہ ابواب میں شمار ہوتا ہے جسے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ ہر انصاف پسند شہری کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

17 جون 2014ء کو پولیس نے لاہور کے معروف علاقے ماڈل ٹاؤن میں تجاوزات ہٹانے کے نام پر تحریک منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کے خلاف پرتشدد کارروائی کی اور 2خواتین سمیت 14 افراد شہید اور ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ سانحے میں شہید اور زخمی ہونے والے تمام افراد نہتے اور غیر مسلح تھے اور انہیں اپنے بنیادی حقوق کے اظہار کی پاداش میں گولیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ افسوسناک سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔

مہذب معاشروں میں ریاست کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ماں اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے، ان کے دکھ درد میں شریک ہوتی ہے اور ہر مشکل گھڑی میں ان کے لیے ڈھال بن جاتی ہے۔ اسی طرح ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں اختلافِ رائے یا انتظامی مسائل کا حل طاقت کے بے جا استعمال سے نہیں بلکہ مکالمے، برداشت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تلاش کیا جاتا ہے۔ جب ریاستی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوں تو شفاف تحقیقات اور غیر جانبدارانہ احتساب ناگزیر ہو جاتا ہے۔

سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے بعد حکومتی درخواست پر قائم ہونے والے جسٹس باقر نجفی جوڈیشل کمیشن نے اس واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اپنی رپورٹ میں کئی اہم سوالات اٹھائے۔ اس رپورٹ کو متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے امید کی ایک کرن سمجھا گیا کیونکہ اس نے واقعے کے پس منظر اور ذمہ داری کے تعین کے حوالے سے متعدد حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کی۔ تاہم بارہ سال گزرنے کے باوجود نہ تو اس جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو سامنے لایا گیا اور نہ ہی ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں آ سکی جس کی وجہ سے انصاف کا سفر آج بھی ادھورا ہے۔

ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بارہ سال گزرنے کے باوجود آج تک سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے شہداء اور زخمیوں کو شفاف تحقیقات کا بنیادی حق بھی مکمل طور پر نہیں مل سکا۔ اس وقت کی حکومت نے اپنی مرضی کے پولیس افسران پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) تشکیل دی جس کی تحقیقات پر ابتدا ہی سے سوالات اٹھائے گئے۔ اس یکطرفہ تحقیقاتی عمل میں شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے بیانات ریکارڈ ہی نہیں کئے گئے، جس کے باعث تحقیقات کی غیر جانبداری اور شفافیت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کے حکم پر ایک نئی JIT تشکیل دی گئی جس سے متاثرین کو امید بندھی کہ شاید اب حقائق مکمل طور پر سامنے آ سکیں گے۔ تاہم جب تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا مرحلہ قریب آیا تو ایک عدالتی حکم کے نتیجے میں یہ عمل روک دیا گیا، جسے ہر صاحب عقل انسان انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیتا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو ابھی تک وہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انصاف میسر نہیں آ سکا جس کے وہ حق دار ہیں۔

اس سانحے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنے شہید اور زخمی کارکنوں کے ساتھ وفاداری اور محبت کی ایک منفرد مثال قائم کی۔ انہوں نے شہداء کے خون اور زخمیوں کے زخموں کو کبھی فراموش نہیں کیا اور انصاف کے حصول کو اپنی جدوجہد کا مرکزی نکتہ بنائے رکھا۔ ان کی قیادت میں ملک گیر سطح پر پرامن احتجاجی مظاہرے کیے گئے، عوامی اجتماعات منعقد ہوئے اور اسلام آباد میں طویل دھرنا دیا گیا۔ تاہم اس تمام جدوجہد کے دوران قانونی راستے کو بھی کبھی ترک نہیں کیا گیا اور انصاف کے لیے عدالتی جنگ مسلسل جاری رکھی گئی جو آج تک جاری ہے.

افسوس کی بات یہ ہے کہ بارہ سال گزرنے کے باوجود یہ قانونی جنگ ابھی تک اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی۔ سپریم کورٹ سے لے کر انسدادِ دہشت گردی عدالت تک مختلف مقدمات، اپیلیں اور درخواستیں زیر التوا ہیں۔ متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ اہم پٹیشنز طویل عرصے سے سماعت کی منتظر ہیں اور انصاف کی رفتار غیر معمولی طور پر سست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہداء کے خاندان آج بھی عدالتوں کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں اور انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک اہم سوال ہے۔ جب کسی بڑے سانحے کے متاثرین کو بروقت انصاف نہ ملے تو اس کے اثرات ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد، قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ انصاف میں تاخیر نہ صرف متاثرین کے زخموں کو مزید گہرا کرتی ہے بلکہ معاشرے میں مایوسی اور بے یقینی کو بھی جنم دیتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں طاقت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ انصاف کی بنیاد پر مضبوط ہوتی ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، جہاں مظلوم کی داد رسی ہو اور جہاں طاقتور بھی قانون کے سامنے جوابدہ ہو، وہی حقیقی معنوں میں مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ کہلاتا ہے۔ سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے شہداء اور زخمیوں کی قربانیاں آج بھی انصاف کی متلاشی ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کی جدوجہد اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ انصاف صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور قومی ذمہ داری بھی ہے۔

آج جب سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی 12ویں برسی منائی جارہی ہے تو ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر کب وہ دن آئے گا جب شہداء کے لواحقین، زخمیوں اور انصاف کے متلاشی افراد کو مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ انصاف مل سکے گا؟ کیونکہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد صرف ترقی، طاقت یا سیاست نہیں بلکہ عدل، قانون کی حکمرانی اور انسانی جان کے احترام پر استوار ہو سکتی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو کسی بھی قوم کو تاریخ میں سرخرو کرتے ہیں اور یہی وہ مطالبہ ہے جو آج بھی سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی زبان پر ہے: انصاف، اور صرف انصاف۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین