لندن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے کہ خواتین اکثر مناسب اور بہتر نیند لینے کے باوجود خود کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ تھکا ہوا محسوس کرتی ہیں اور اپنی نیند کے معیار کو بھی کم تسلی بخش قرار دیتی ہیں۔
جرنل "سلیپ ایڈوانسز” میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں تقریباً 500 افراد کی نیند کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محققین نے شرکاء کے دماغی سگنلز، سانس لینے کے انداز، جسمانی حرکات اور رات کے دوران جاگنے کے مختصر اوقات کا مشاہدہ کیا۔
تحقیق کے نتائج نے ماہرین کو حیران کر دیا کیونکہ نیند کی سائنسی پیمائش کے مطابق خواتین کی نیند کئی معاملات میں مردوں سے بہتر ثابت ہوئی، لیکن اس کے باوجود خواتین نے اپنی نیند کے معیار کے بارے میں زیادہ منفی رائے دی۔
سویڈن کے معروف تحقیقی ادارے Karolinska Institute سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر ٹوربجورن آکرشٹڈ کے مطابق یہ ایک دلچسپ نفسیاتی اور جسمانی فرق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین رات کے دوران ہونے والی مختصر بیداریوں اور نیند میں آنے والی معمولی تبدیلیوں کو زیادہ محسوس اور یاد رکھتی ہیں، جبکہ مرد اکثر ان مختصر وقفوں کو محسوس ہی نہیں کرتے۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ خواتین رات کے دوران کتنی بار جاگیں، اس کا اندازہ کافی حد تک درست لگاتی ہیں۔ اس کے برعکس مرد عام طور پر اپنی بیداری کے اوقات کو کم سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی نیند کے بارے میں زیادہ مثبت رائے رکھتے ہیں۔
ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا کہ مرد اگر چند لمحوں کے لیے جاگ بھی جائیں تو وہ اس تجربے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے، جبکہ خواتین انہی مختصر وقفوں کو اپنی نیند کے معیار میں کمی کے طور پر محسوس کرتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ یہ فرق مزید واضح ہوتا جاتا ہے۔ خاص طور پر درمیانی عمر اور اس کے بعد خواتین میں نیند کے بارے میں حساسیت میں اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اچھی نیند صرف گھنٹوں کی تعداد کا نام نہیں بلکہ دماغ اس دوران ہونے والی تبدیلیوں کو کس طرح محسوس کرتا ہے، یہ بھی اتنا ہی اہم عنصر ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تحقیق اس غلط فہمی کو دور کرتی ہے کہ تھکن صرف کم سونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بعض اوقات دماغی کیفیت اور نیند کے بارے میں ذاتی احساسات بھی انسان کی توانائی اور مزاج پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
نیند کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین میں ہارمونز، ذہنی دباؤ، گھریلو ذمہ داریاں اور دماغی حساسیت بھی نیند کے تجربے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اسی لیے بعض خواتین مکمل نیند لینے کے باوجود تازگی محسوس نہیں کرتیں۔
عوامی ردعمل
تحقیق سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد خواتین نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر مناسب نیند کے باوجود خود کو تھکا ہوا محسوس کرتی ہیں جبکہ مرد نسبتاً کم نیند میں بھی زیادہ توانائی محسوس کرتے ہیں۔
یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نیند کا معیار صرف سونے کے دورانیے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ ذہنی سکون، جسمانی صحت اور دماغی کیفیت بھی اچھی نیند کے اہم عوامل ہیں۔
میری رائے میں اس تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خواتین اور مردوں کے نیند کے تجربات میں قدرتی فرق موجود ہے۔ اس لیے صرف نیند کے گھنٹوں پر توجہ دینے کے بجائے ذہنی سکون، تناؤ میں کمی اور متوازن طرزِ زندگی کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔





















