موسمیاتی تبدیلی نے فرانس کو ہلا کر رکھ دیا، بجلی بحران، اے سی اور پنکھوں کی مانگ بڑھ گئی

بجلی کی طلب میں اچانک اضافے اور نظام پر غیر معمولی بوجھ کے باعث یہ خرابی سامنے آئی،حکام

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)یورپ کے کئی ممالک اس وقت غیر معمولی اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جس نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ فرانس میں شدید گرمی کے باعث بجلی کا نظام دباؤ کا شکار ہوگیا اور ہزاروں گھرانوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، جبکہ مختلف یورپی ملکوں میں ٹرانسپورٹ، کاروبار اور روزمرہ سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بدھ کو بھی یورپ کے مختلف علاقوں میں گرمی کی شدت برقرار رہی۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ فضا میں بننے والا ایک خاص نظام گرم ہوا کو کئی روز تک مخصوص علاقوں میں روکے رکھتا ہے، جس کے باعث درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے اس ہیٹ ویو کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

فرانس کے سرکاری موسمیاتی ادارے نے بتایا ہے کہ منگل کے روز ملک کا اوسط درجہ حرارت 29.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو 1947 سے موسم کا ریکارڈ مرتب کیے جانے کے بعد سب سے بلند سطح ہے۔

شدید گرمی نے فرانس کے بجلی کے نظام کو بھی متاثر کیا۔ شمال مغربی علاقے فینسٹر میں ایک ٹرانسفارمر خراب ہونے کے بعد تقریباً 68 ہزار گھروں کی بجلی بند ہو گئی۔ حکام کے مطابق بجلی کی طلب میں اچانک اضافے اور نظام پر غیر معمولی بوجھ کے باعث یہ خرابی سامنے آئی۔

رپورٹس کے مطابق منگل کی رات تک فرانس میں ایک لاکھ سے زیادہ صارفین بجلی کی بندش سے متاثر ہو چکے تھے۔ متعلقہ ادارے بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، تاہم تمام علاقوں میں بجلی کی مکمل بحالی میں کچھ وقت لگنے کا امکان ہے۔

گرمی کی بڑھتی شدت کے ساتھ فرانس میں پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کی خریداری بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ بڑے ریٹیل اسٹورز اور آن لائن خریداری کے پلیٹ فارمز کے مطابق ٹھنڈک فراہم کرنے والی اشیا کی فروخت میں کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

صرف فرانس ہی نہیں بلکہ اٹلی، برطانیہ، بیلجیئم، نیدرلینڈز، اسپین، پولینڈ، ہنگری اور کروشیا بھی شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں۔ کئی یورپی شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

برطانیہ میں گرمی کے اثرات کے باعث اسکولوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو خصوصی انتظامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب بیلجیئم کے معروف سیاحتی مقام ایٹومیئم نے بھی شدید گرمی کے باعث اپنے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق موجودہ گرمی کی لہر انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے مزید خطرناک ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آئندہ برسوں میں ایسی شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ سکتی ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر محض چند دنوں کی غیر معمولی موسمی کیفیت نہیں بلکہ دنیا کے بدلتے ہوئے ماحول کی ایک واضح اور تشویشناک علامت ہے۔ فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں درجہ حرارت کا ریکارڈ سطح تک پہنچ جانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خدشہ نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی، معیشت، صحت اور بنیادی سہولیات کو متاثر کرنے والی حقیقت بن چکی ہے۔

فرانس میں اوسط درجہ حرارت کا 29.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنا اور ہزاروں گھروں کا بجلی سے محروم ہونا اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ شدید گرمی میں ایئر کنڈیشنرز، پنکھوں اور دیگر برقی آلات کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے بجلی کی طلب کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ جب بجلی کا نظام اس اضافی بوجھ کو برداشت نہ کر سکے تو ٹرانسفارمر خراب ہونے، لوڈ شیڈنگ اور وسیع پیمانے پر بجلی کی بندش جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ فینسٹر میں ہزاروں گھروں کی بجلی بند ہونا اسی دباؤ کی ایک مثال ہے۔

گرمی کی شدت صرف بجلی کے نظام تک محدود نہیں رہتی۔ اس کے اثرات صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، تجارت اور سیاحت پر بھی پڑتے ہیں۔ بزرگ افراد، بچے، بیمار لوگ اور کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدور سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، سانس اور دل کے امراض میں اضافے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے برطانیہ میں اسکولوں اور ٹرانسپورٹ نظام کو خصوصی انتظامات کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ بیلجیئم میں معروف سیاحتی مقام ایٹومیئم کو بھی اپنے اوقات کار محدود کرنا پڑے۔

یہ صورتحال یورپی ممالک کے لیے ایک بڑا امتحان ہے کیونکہ وہاں بنیادی سہولیات اور شہری نظام عام طور پر معتدل موسم کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیے گئے ہیں۔ جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے اوپر پہنچتا ہے تو ریل کی پٹریاں، سڑکیں، بجلی کے تار، عمارتیں اور عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہونے لگتا ہے۔ کاروباری سرگرمیوں میں کمی آتی ہے، دفاتر کے اوقات بدلنے پڑتے ہیں اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔

فرانس میں پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام فوری طور پر گرمی سے بچنے کے انتظامات کر رہے ہیں۔ تاہم اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ ایئر کنڈیشنرز کے زیادہ استعمال سے بجلی کی کھپت بڑھتی ہے، جس سے توانائی کے نظام پر مزید دباؤ پڑتا ہے۔ اگر بجلی کی پیداوار زیادہ تر فوسل فیولز پر انحصار کرتی ہو تو کاربن اخراج میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جو بالآخر موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے بار بار یہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ انسانی سرگرمیاں، صنعتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور فوسل فیولز کا بے تحاشا استعمال عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا بنیادی سبب ہیں۔ موجودہ گرمی کی لہر بھی اسی طویل مسئلے کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ اگر دنیا نے کاربن اخراج کم کرنے، صاف توانائی کو فروغ دینے اور ماحول دوست پالیسیوں پر سنجیدگی سے عمل نہ کیا تو مستقبل میں صرف یورپ ہی نہیں بلکہ ایشیا، افریقہ اور دیگر خطے بھی زیادہ شدید موسمی آفات کا سامنا کریں گے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال ایک اہم تنبیہ ہے۔ یہاں پہلے ہی گرمی کی لہریں، پانی کی قلت، خشک سالی، سیلاب اور فضائی آلودگی جیسے مسائل موجود ہیں۔ یورپ میں پیدا ہونے والی یہ موسمی صورتحال ثابت کرتی ہے کہ کوئی بھی ملک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے جدید انفراسٹرکچر پر جب شدید گرمی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے تو ترقی پذیر ممالک کے لیے خطرات کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں صرف ہنگامی اقدامات تک محدود نہ رہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کریں۔ بجلی کے نظام کو جدید بنایا جائے، قابل تجدید توانائی کے ذرائع بڑھائے جائیں، شہری علاقوں میں درخت لگائے جائیں، عمارتوں کو گرمی برداشت کرنے کے قابل بنایا جائے اور عوام کو شدید موسم سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون بھی ناگزیر ہے کیونکہ یہ مسئلہ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں۔

یورپ کی موجودہ گرمی کی لہر ایک واضح پیغام ہے کہ فطرت کے بدلتے ہوئے رویوں کو نظر انداز کرنے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو ریکارڈ توڑ گرمی، بجلی کے بحران، پانی کی قلت اور صحت کے مسائل آنے والے وقت میں معمول بن سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین