کراکس (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)جنوبی امریکی ملک وینزویلا بدترین قدرتی آفت کی لپیٹ میں آ گیا، جہاں چند سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلوں نے دارالحکومت کراکس سمیت متعدد علاقوں میں شدید تباہی مچا دی۔ کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، سیکڑوں افراد زخمی ہوئے جبکہ ملبے تلے متعدد افراد کے دبے ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق پہلا زلزلہ 7.2 شدت کا تھا، جس کے صرف 39 سیکنڈ بعد 7.5 شدت کا دوسرا اور زیادہ طاقتور زلزلہ آیا۔ دونوں زلزلوں کے جھٹکے پورے وینزویلا میں محسوس کیے گئے جبکہ پڑوسی ممالک تک بھی لرزش کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ابتدائی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 32 افراد جاں بحق اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
امدادی اداروں کے مطابق متعدد رہائشی اور تجارتی عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں جبکہ کئی مقامات پر ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی، مواصلات اور ٹرانسپورٹ کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے کی شدت اور متاثرہ آبادی کو دیکھتے ہوئے جانی نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔ ادارے کے تخمینے کے مطابق اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچنے کا خدشہ موجود ہے، تاہم یہ صرف ابتدائی ماڈلنگ پر مبنی اندازہ ہے، حتمی اعداد و شمار نہیں۔
زلزلے سے وینزویلا کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے سائمن بولیوار (مائیکیٹیا) ایئرپورٹ کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث پروازوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مسافروں کو خوف و ہراس کے عالم میں ایئرپورٹ سے باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ عمارت کے بعض حصوں سے ملبہ اور گردوغبار گرتا نظر آیا۔
حکام نے ہسپتالوں، ریسکیو اداروں اور سیکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر متحرک کر دیا ہے جبکہ اسکولوں کو عارضی پناہ گاہوں اور امدادی مراکز میں تبدیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے کہا ہے کہ امریکا اس مشکل گھڑی میں وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق انسانی بنیادوں پر امداد اور ریسکیو معاونت کے لیے مختلف اداروں کو متحرک کیا جا رہا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حالیہ زلزلے وینزویلا کی حالیہ تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امدادی کارروائیاں، آفٹر شاکس اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی سب سے بڑا چیلنج ہوں گے۔
عوامی ردعمل
وینزویلا اور دنیا بھر سے سوشل میڈیا صارفین متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کر رہے ہیں جبکہ کئی ممالک نے امدادی تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔
ماہرین کی رائے
زلزلہ ماہرین کے مطابق متاثرہ علاقوں میں آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
قدرتی آفات کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہوتی ہیں۔ ایسے مواقع پر عالمی تعاون اور فوری امدادی کارروائیاں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہیں۔
میری رائے میں وینزویلا کو اس وقت فوری انسانی امداد، طبی سہولیات اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین کی بروقت مدد کی جا سکے اور مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔





















