بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر بڑا سانحہ، 40 مسافر جاں بحق

کوچ کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی کہ ضلع شیرانی کے پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہو کر گہری کھائی میں جا گری

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)  بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے دانہ سر میں مسافر کوچ گہری کھائی میں گرنے سے 40 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے۔ جاں بحق اور زخمی مسافروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوچ کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی کہ ضلع شیرانی کے پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کی شدت کے باعث بڑی تعداد میں مسافر موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلع شیرانی کی انتظامیہ، ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینسز جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دی گئیں۔ خیبر پختونخوا سے بھی امدادی اہلکار موقع پر پہنچے اور بلوچستان کی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کا آغاز کیا۔

ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ نے بتایا کہ زخمی مسافروں کو کھائی سے نکال کر قریبی طبی مراکز میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی میتیں نکالنے اور اسپتالوں تک پہنچانے کا عمل بھی جاری ہے۔

حادثے کے بعد ضلع شیرانی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد اور بہتر علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

ریسکیو آپریشن میں ریسکیو 1122، فرنٹیئر کور، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ پہاڑی اور دشوار گزار مقام ہونے کے باعث امدادی ٹیموں کو کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں، تاہم آپریشن بلا تعطل جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ پیش آنے کی اصل وجوہات معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے افسوس ناک حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حادثے کی اطلاع موصول ہوتے ہی صوبائی حکومت نے تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو امدادی سرگرمیاں فوری طور پر تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی تھی۔ ان کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی ضلعی انتظامیہ، ایف سی، ریسکیو ادارے اور دیگر محکمے مل کر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔

انہوں نے متعلقہ انتظامی افسران کو حادثے کے اسباب کی مکمل چھان بین کرنے اور تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے جاں بحق مسافروں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان اس مشکل وقت میں متاثرین اور ان کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

روزنامہ تحریک کے صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد کے قریب دانہ سر میں مسافر کوچ کے گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 40 افراد کی ہلاکت اور آٹھ کے زخمی ہونے کا واقعہ ایک انتہائی دردناک قومی سانحہ ہے۔ ابتدائی سرکاری معلومات کے مطابق کوچ کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی اور اس میں 48 مسافر سوار تھے۔ بتایا گیا ہے کہ کوچ کوئٹہ سے 36 مسافروں کے ساتھ روانہ ہوئی، تاہم راستے میں خراب ہونے والی ایک دوسری گاڑی کے مزید مسافر بھی اس میں سوار ہو گئے۔ چونکہ امدادی کارروائیاں اور معلومات جمع کرنے کا عمل جاری ہے، اس لیے جانی نقصان اور واقعے کی دیگر تفصیلات میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

یہ سانحہ بظاہر ایک گاڑی کے کھائی میں گرنے کا واقعہ ہے، لیکن اس کی سنگینی ہمیں پاکستان، خصوصاً بلوچستان کے بین الصوبائی راستوں پر مسافروں کی حفاظت، گاڑیوں کی فٹنس، ڈرائیوروں کی نگرانی، سڑکوں کے معیار اور ہنگامی امداد کے پورے نظام کا جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے حادثے کو محض تیز رفتاری، ڈرائیور کی غفلت یا کسی فنی خرابی سے جوڑ دینا مناسب نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک انسانی غلطی ہوئی بھی تو سڑک، گاڑی اور نگرانی کے نظام میں موجود حفاظتی انتظامات اس غلطی کو اتنے بڑے سانحے میں تبدیل ہونے سے کیوں نہ روک سکے؟

دانہ سر بار بار حادثات کا مرکز کیوں؟

دانہ سر کے علاقے میں یہ پہلا مہلک کوچ حادثہ نہیں۔ جولائی 2022 میں اسی علاقے کے قریب ایک مسافر بس کھائی میں گرنے سے کم از کم 19 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے تھے۔ ستمبر 2024 میں بھی دانہ سر کے قریب ایک کوچ کھائی میں جا گری تھی، جس میں پانچ افراد جان سے گئے اور 20 زخمی ہوئے۔ اس حادثے کے بارے میں حکام نے تیز رفتاری کو ممکنہ وجہ قرار دیا تھا۔

ایک ہی دشوار گزار علاقے میں وقفے وقفے سے ہونے والے ایسے حادثات اس مقام کو ایک ممکنہ حادثاتی بلیک اسپاٹ بناتے ہیں۔ اگر کسی راستے پر بار بار گاڑیاں بے قابو ہو کر کھائیوں میں گر رہی ہوں تو معاملہ صرف ڈرائیوروں کی انفرادی غلطیوں تک محدود نہیں رہتا۔ پھر سڑک کے ڈیزائن، موڑوں کی ساخت، حفاظتی دیواروں، مضبوط کریش بیریئرز، انتباہی علامات، رفتار کی حدود، رات کی روشنی اور مسلسل نگرانی کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔

دانہ سر کے راستے پر ماضی میں بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک بھی بند ہوتی رہی ہے، جو اس پہاڑی گزرگاہ کی جغرافیائی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے مقامات پر عام شاہراہوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط حفاظتی انتظامات اور موسمی حالات کے مطابق ٹریفک کنٹرول ضروری ہوتا ہے۔

مسافروں کی تعداد اور ریکارڈ کا اہم سوال

ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کوچ کوئٹہ سے 36 مسافروں کے ساتھ روانہ ہوئی، بعدازاں دوسری خراب گاڑی کے مسافر بھی اس میں منتقل ہوئے اور حادثے کے وقت مجموعی طور پر 48 افراد سوار تھے۔

تحقیقات میں یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ کوچ کی منظور شدہ گنجائش کتنی تھی، منتقل کیے جانے والے مسافروں کا باقاعدہ اندراج ہوا یا نہیں، ان کے سامان کا وزن کتنا تھا اور کیا گاڑی کو اس کی تکنیکی صلاحیت سے زیادہ بوجھ کے ساتھ چلایا جا رہا تھا۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر ابھی یہ کہنا درست نہیں کہ کوچ لازماً اوور لوڈ تھی، تاہم مسافروں کی منتقلی اور سفری فہرست کا معاملہ باقاعدہ جانچ کا تقاضا کرتا ہے۔

پاکستان میں اکثر بین الصوبائی کوچز کے پاس مکمل ڈیجیٹل مسافر فہرست موجود نہیں ہوتی۔ حادثے کے بعد مسافروں کی شناخت، خاندانوں کو اطلاع اور ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم کرنے میں اسی وجہ سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ ہر طویل فاصلے کی مسافر گاڑی کے لیے شناختی دستاویز سے منسلک ڈیجیٹل مسافر فہرست لازمی ہونی چاہیے، جس تک ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی صورت حال میں فوری رسائی حاصل ہو۔

گاڑی کی فٹنس کی رسمی نہیں، تکنیکی جانچ ہونی چاہیے

تحقیقات میں کوچ کے بریک سسٹم، ٹائروں، اسٹیئرنگ، معطلی کے نظام، ایمرجنسی اخراج، سیٹوں، حفاظتی بیلٹس اور سابقہ مرمت کے مکمل ریکارڈ کا فرانزک معائنہ کیا جانا چاہیے۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ گاڑی کا فٹنس سرٹیفکیٹ کب جاری ہوا، کس ادارے نے معائنہ کیا اور کیا معائنہ صرف کاغذی کارروائی تھا یا گاڑی کو عملی طور پر جانچا گیا تھا۔

گاڑیوں کی فٹنس جانچ میں بدعنوانی، جعلی سرٹیفکیٹس یا ناقص معائنے کی صورت میں ذمہ داری صرف ٹرانسپورٹ کمپنی یا ڈرائیور تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے اہلکار، روٹ پرمٹ دینے والے ادارے اور گاڑی کے مالک کو بھی جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔ حادثے کے بعد کسی ایک کمزور فریق کو ذمہ دار قرار دے کر معاملہ بند کر دینا اصلاح نہیں بلکہ اصل خرابی کو چھپانے کے مترادف ہوگا۔

ڈرائیور کی تھکن اور کام کے اوقات

کوئٹہ سے پشاور کا سفر طویل، تھکا دینے والا اور مختلف نوعیت کے پہاڑی راستوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے تحقیقات میں ڈرائیور کے کام کے اوقات، روانگی سے پہلے آرام، سابقہ ڈیوٹی، ڈرائیونگ لائسنس، پہاڑی علاقوں میں گاڑی چلانے کے تجربے اور ممکنہ متبادل ڈرائیور کی موجودگی کا تعین ضروری ہے۔

طویل سفر کرنے والی کوچز میں ڈرائیوروں کے لیے زیادہ سے زیادہ مسلسل ڈرائیونگ کے اوقات مقرر ہونے چاہییں۔ گاڑی میں نصب ٹریکر سے رفتار کے ساتھ ڈرائیونگ کے دورانیے، اچانک بریک لگانے اور راستے میں قیام کی معلومات بھی محفوظ کی جا سکتی ہیں۔ اس ڈیٹا کو حادثے کے بعد ہی نہیں بلکہ معمول کے دوران بھی مانیٹر کیا جانا چاہیے۔

ریسکیو کارروائی اور بین الصوبائی رابطہ

حادثہ صوبائی سرحد کے قریب پیش آنے کے باعث بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی انتظامیہ، ریسکیو اداروں، پولیس، ایف سی اور طبی مراکز کو مشترکہ کارروائی کرنا پڑی۔ دونوں صوبوں کے اداروں کی شرکت مثبت امر ہے، تاہم دشوار گزار جغرافیہ میں ریسکیو کی کامیابی صرف اہلکاروں کی محنت پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔

ایسے حساس مقامات کے قریب خصوصی ریسکیو مراکز، بھاری کٹنگ مشینری، رسیوں اور پہاڑی امداد کا سامان، ایئر ایمبولینس یا ہیلی کاپٹر رسپانس، تربیت یافتہ ٹراما ٹیمیں اور خون کے ذخائر دستیاب ہونے چاہییں۔ زخمی کو حادثے کے بعد ابتدائی ایک گھنٹے میں مناسب طبی امداد ملنا اس کی زندگی بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستان میں سڑکوں پر اموات کا بڑا مگر کم ریکارڈ شدہ بحران

عالمی ادارۂ صحت کے پاکستان سے متعلق روڈ سیفٹی پروفائل کے مطابق 2021 میں ملک میں سڑک حادثات سے سرکاری طور پر 5,816 اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کا تخمینہ 27,568 اموات تھا۔ یہ بڑا فرق ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں سڑک حادثات سے ہونے والے جانی نقصان کی ایک بڑی تعداد یا تو مکمل طور پر ریکارڈ نہیں ہوتی یا مختلف اداروں کے اعدادوشمار میں شامل نہیں ہو پاتی۔

اعدادوشمار کا ناقص نظام پالیسی سازی کو بھی کمزور کرتا ہے۔ جب یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کس شاہراہ پر کتنے حادثات ہوئے، ان کے بنیادی اسباب کیا تھے اور کون سی ٹرانسپورٹ کمپنیاں بار بار حادثات میں ملوث رہیں تو اصلاحی اقدامات محض عمومی بیانات تک محدود رہتے ہیں۔

حکومتی اظہارِ افسوس کافی نہیں

وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے امدادی کارروائیاں تیز کرنے، زخمیوں کو علاج فراہم کرنے اور تحقیقات کی ہدایت دینا ضروری اقدام ہے، مگر اصل امتحان اس وقت شروع ہوگا جب ابتدائی جذباتی ردعمل ختم ہو جائے گا۔

پاکستان میں بڑے حادثات کے بعد تحقیقات کا اعلان تو کیا جاتا ہے، لیکن بیشتر تحقیقاتی رپورٹس عوام کے سامنے نہیں آتیں۔ اس مرتبہ حکومت کو واضح مدت مقرر کرنی چاہیے۔ رپورٹ میں حادثے کی تکنیکی وجہ، گاڑی کی حالت، ڈرائیور کی ذمہ داری، سڑک کی خامیاں، متعلقہ اداروں کی غفلت اور آئندہ کے لیے اصلاحات بیان کی جائیں۔ رپورٹ کو شائع کیا جائے اور ذمہ دار افراد یا اداروں کے خلاف کی گئی کارروائی سے بھی عوام کو آگاہ کیا جائے۔

فوری طور پر کیا کیا جانا چاہیے؟

دانہ سر سمیت ژوب—ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ کے تمام خطرناک مقامات کا آزاد تکنیکی آڈٹ کرایا جائے۔ خطرناک موڑوں پر مضبوط اسٹیل یا کنکریٹ بیریئرز، رفتار کم کرنے والے انتظامات، نمایاں انتباہی بورڈ، رات کے لیے عکاس نشانات اور ہنگامی رابطہ نظام نصب کیا جائے۔

بین الصوبائی کوچز کی فٹنس کی دوبارہ جانچ، ڈرائیوروں کے کام کے اوقات کی نگرانی، گاڑیوں کے ٹریکرز کا فعال استعمال اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کا حفاظتی ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ بار بار قوانین توڑنے والی کمپنیوں کے روٹ پرمٹ معطل یا منسوخ کیے جائیں۔

متاثرہ خاندانوں کو صرف ایک مرتبہ مالی امداد دینے کے بجائے میتوں کی منتقلی، زخمیوں کے مکمل علاج، بچوں کی تعلیم اور خاندان کے کفیل کی موت کی صورت میں طویل مدتی معاونت بھی فراہم کی جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین